تمام شبهات

جونیہ قبیلے کی خاتون كى نبی کریم ﷺ سے شادى پر اعتراضات كے جوابات

ايک حديث ميں ہے کہ آپ ﷺ سے جونى نامى قبيلہ كى خاتون سے شادى كی، ليكن پھر وہ  رشتہ قائم نہ رہا، اس  كى كيا وجہ بنى؟ اور  كيا آپ ﷺ نے واقعى نكاح كيا تھا يا یوں کہا تھا کہ اپنا نفس میرے حوالے کردو ؟ اسى طرح بعض ديگر اعتراضات جيسے اس حدیث میں  اس عورت کے نام  میں  تعارض ہے  (يعنى اس بارے ميں مختلف متضاد باتيں ملتى ہیں)،  بعض لوگ  یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ  اس حدیث میں عورت  نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں نازیبہ کلمات استعمال کیے،   یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ ابو اسید رضى الله عنہ اس عورت کو اس کے محرم کے بغیر چھوڑنے کیوں گئے؟

کیا قرآن کریم میں حدیث نبوى کو لھو الحدیث کہا گیا ہے؟

جو بھی چیز قرآن كريم کے مقابلے میں پیش کی جائےیا قرآن كريم  سے مشغول کرے اسے قرآن نے لہو الحدیث کہاہے ۔
اللہ تعالی فرماتا ہے :  (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ) (سورۃ لقمان:6)
ترجمہ: اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
کیونکہ حدیث کو قرآن مجيد  کے مقابلے میں پیش کیاجاتا ہےاور قرآن مجيد اللہ کی راہ ہےتو جو کچھ بھی اللہ کے راہ سے ہٹائےوہ لہو الحدیث ہے!۔

کیا نبی ﷺ نے امیر معاویہ کے لیے بد دعا کی؟

حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاویہ کو بلایا  وہ نہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس (امیر معاویہ ) کا پیٹ نہ بھرے۔ ‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امیر معاویہ کے لیے بد دعا کے کلمات  ارشاد فرمائے تھے۔
حدیث میں وارد الفاظ بد دعا نہیں بلکہ اہل عرب کے کلام میں اس قسم کے کلمات بطور محاورہ بول دیے جاتے ہیں ،   جيسا كہ عربى لغت كے علماء نے اس كى وضاحت كى.  ديكھیں: الشفاء للقاضى عياض (2/197)،   شرح النووى (16/152).

حدیث قول رسول نہیں،بلکہ قول رسول تو قرآن کریم ہے!

حدیث قول رسول نہیں جیسا کہ دعوی کیا جاتا ہے،  قول رسول تو قرآن کریم ہے! کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ حدیث رسول  اللہ ﷺکا قول ہے ، اور قرآن کریم سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول  اللہ ﷺکا قول تو قرآن کریم ہی ہے۔
 اللہ تعالی فرماتا ہے:  إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ( سورۃ الحاقۃ:40 )
ترجمہ: بلاشبہ یہ (قرآن) یقیناً ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے۔

بنو اميہ كا ذكر حديث نبوىﷺ ميں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے سچوں کے سچے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے ، آپ فرمارہے تھے کہ میری امت کی بربادی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہوگی ۔(صحیح بخاری:3605)
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یزید بن ابی سفیان سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ ‌سے سنا فرما رہے تھے: پہلا شخص جو میری سنت(طریقے)کو تبدیل کرے گا بنو امیہ میں سے ہوگا۔(مصنف ابن ابى شيبہ: 20/156،سلسلۃ الاحاديث الصحیحۃ:1749)
ان دونوں احادیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کے آپ ﷺ نے بنو امیہ کی مذمت فرمائی!

كيا نبی ﷺ کی ازواج اہل بیت ميں شامل ہیں؟

بعض حضرات كا كہنا ہے  نبی ﷺ کی ازواج اہل بیت ميں شامل نہیں!  اس بات كى دليل یہ حديث بيان كى جاتى ہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو نکلے اور آپ ﷺ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے يہ آيت تلاوت فرمائی: