تمام شبهات

کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا اور عرفِ عام

انسان کے کھانا کھانے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ وہ اکیلا کسی برتن میں کھائے، دوسری یہ کہ ایک برتن میں ایک سے زیادہ لوگ کھائیں؛ پہلی صورت میں انگلی چاٹنے میں کوئی ناپسندیدگی یا کراہت کا سوال نہیں، البتہ دوسری صورت میں سنت طریقہ یہ ہے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد انگلی چاٹے کیونکہ دورانِ کھانا چاٹنے سے اس کی انگلی پر جو لعاب دہن لگا ہوگا وہ دوبارہ کھانے میں جائے گا جس سے ساتھ کھانے والے کراہت محسوس کریں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر سنت پر درست طریقہ سے عمل کیا جائے تو کوئی کراہت والی بات نہیں

گائے کے گوشت میں بیماری اور میڈیکل سائنس

وضاحت شبہ : بعض احادیث میں آتا ہے کہ گائے کے گوشت میں بیماری ہے، جبکہ یہ بات میڈیکل سائنس کے خلاف ہے۔   جوابِ شبہ پہلی بات : گائے کے گوشت میں بیماری کے بارے میں مختلف صحابہ سے احادیث مروی ہیں، جن میں ملیکہ بنت عمرو اور جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ…

ابو طالب کے عذاب میں کمی کیوں؟

وضاحت شبہ: ایک حدیث میں آتا ہے: جناب عباس بن عبدالمطلب سے روایت ہے، کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کےرسول! کیا  آپ نے ابو طالب (نبى ﷺ کے چچا)  کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے، اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے۔ آپ  ﷺنے جواب دیا:…

حضرت آدم علیہ السلام کے لمبے قدپر تعجب !

وضاحت شبہ:  حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی ۔۔۔ آدم علیہ السلام…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شراب کے حرام ہونے کے بعد بھی شراب پیتے تھے (معاذاللہ)

بعض جہلاء نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بہتانِ شنیع لگایا کہ وہ اسلام لانے کے بعد بھی شراب پیتے تھے۔ (معاذاللہ ) اس بہتان کو ثابت کرنے کے لیے وہ جس روایت سے سہارا لیتے ہیں ہم اس روایت کی حقیقت قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے ۔

کعب الاحبار پر اسرائیلی روایات کو سنت میں خفیہ طور پرداخل کرنے کا الزام!

کہا جاتا ہے کہ کعب الاحبارجو کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودی تھےانہوں نے احادیث میں خفیہ طور پر اسرائیلی روایات کو داخل کردیااور وہ منافق تھے(نعوذ باللہ)ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر احادیث کے نام پررسول اللہ ﷺ کی طرف وہ کچھ منسوب کرتے تھے جودر اصل پچھلی کتابوں یعنی اہل کتاب (بنی اسرائیل) کی باتیں تھیں ! اور اس بات کی دلیل یہ بیان جاتی ہےکہ
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا : کبھی ان کی بات جھوٹ نکلتی تھی۔