احاديث كے عقل کے مخالف ہونے سے متعلقہ شبہات

حضرت عائشہ سے كم عمرى ميں شادى مناسب نہیں!

حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال کی تھی۔  (صحیح بخاری : 5134 )  اس کم عمری میں عورت کے ساتھ شادی ظلم ہے کیونکہ وہ ابھی اس قابل ہی نہیں ہوئی۔

كيا مکھی کے ایک پر میں شفا اور ایک پر میں بیماری ہے؟

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ايک حدیث میں ہے آيا کہ مکھی کے ایک پر میں بیماری اور ایک پر میں شفا ہے ۔ (صحيح بخارى 3320)
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مکھی جو جراثیم کا باعث بنتی ہے اسے علاج قرار دیا جائے۔ اور بیماری اور علاج کو اللہ تعالیٰ ایک ہی شے میں جمع کردے۔

 کتا اگر برتن میں منہ مار جائے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھونا!

جدید سائنسی دور میں بہت سی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بیشمار خطرناک بیماریاں ایسی ہیں جوانسان میں کتے كے ذریعے سے منتقل ہوتی ہیں جن میں ریبیز (Rabies) جیسی مہلک بیماری بھی شامل ہے جس کی بنیادی وجہ کتے میں پائے جانے والے خطرناک جراثیم ہیں جوکہ زیادہ تر کتے کے لعاب کے ذریعے پھیلتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لانے والے کو قتل کرنے کا حکم!!

 اس شبہ كى اصل وجہ حدیث کا غلط فہم ہے، اس حدیث میں دو الفاظ ایسے ہیں جن کا غلط معنیٰ سمجھا گیا ہے، ایک لفظ ’’أقاتل‘‘اور دوسرا لفظ ’’الناس‘‘ہے۔ یہ سمجھنا کے’’أقاتل‘‘کا معنی محض قتل کرنا ہے یہ غلط فہمی ہےکیونکہ عربی زبان میں اس صیغہ کا استعمال اس صورت میں ہوتا ہے جب لڑائی دونوں جانب سے ہو۔۔

موت کا مینڈھے کی صورت میں ذبح کیا جانا!

جیسا کہ حدیث میں آتا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ’’قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی ۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو ! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے ، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا ۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو ؟ وہ بولیں گے کہ ہاں ، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہوگا ۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا….‘‘ (صحیح بخاری:4730، صحیح مسلم:2849)

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے تین جھوٹ

حدیث میں ہے کہ سیدنا  ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے، کوئی الله تعالى كا نبی جھوٹ نہیں بول سکتا لہذا یہ حدیث قابل قبول نہیں  نیز یہ حدیث قرآن مجيد کے بھی خلاف ہے کیونکہ قرآن میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سچے نبی تھے۔ (مریم : 41)

حديث میں نوجوان کی رضاعت کا ذکر ہے!

حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ، انہوں نے کہا: سہلہ بنت سہیل ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں سالم ؓ کے گھر آنے کی بنا پر (اپنے شوہر) ابوحذیفہ ؓ کے چہرے میں (تبدیلی) دیکھتی ہوں ۔۔ حالانکہ وہ ان کا حلیف بھی ہے ۔۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: "اسے دودھ پلا دو۔” انہوں نے عرض کی: میں اسے کیسے دودھ پلاؤں؟ جبکہ وہ بڑا (آدمی) ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: "میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ بڑا آدمی ہے۔( صحیح مسلم:1453)
کیا یہ معقول ہے کہ اللہ کے نبی ﷺایک بڑے آدمی کے لئے اس طرح ایک عورت کو دودھ پلانے کا حکم دیں!

حدیث میں عورت کو کم عقل اور کم دین کہا گیا !

ايک حدیث میں عورت کو کم عقل اور کم دین کہا گیا.ديكھیں: صحيح بخارى ( ۳۰۴)، وصحيح مسلم ( ۲۴۰). اور يہ  عورت كے عزت واحترام كے منافى ہے۔ اس حديث ميں جس جملہ كو قابل اعتراض سمجھا جارہا ہے اسى حديث ميں اس كى وضاحت موجود ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے عورت كى عقل کی کمی  كو عورت كى بعض معاملات میں آدھی گواہی ہونا بيان فرمايا، جو ازروئے قرآن مجيد ثابت ہے،

عورت نمازى كے آگے سے گزرے تو نماز ٹوٹ جاتى ہے!

بعض احادیث میں آیا ہے کہ نماز ميں اگر عورت، يا گدھا اور كتا سامنے سے گزریں تو نماز ٹوٹ جاتى ہے، عورت كو دو جانوروں كے ساتھ ذكر كرنا يہ  عورت كے عزت واحترام كے منافى ہے۔