حديث کی حجت کے بارے میں شبہات

صرف قرآن مجيد ہی مكمل دين کى وضاحت كے ليے كافى ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: }ما فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ } [سورة الأنعام، الآية: 38]. ترجمہ: {ہم نے کتاب میں کسی چیز کو نظرانداز نہیں کیا} [سورۃ الانعام، آیت: 38]۔ اور فرماتا ہے: } وَنَزَّلْنَا عَلَيْك الْكِتَاب تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْء {[سورة النحل، الآية: 89].  ترجمہ: {اور ہم نے آپ پر ہر چیز کی وضاحت کرنے والی کتاب نازل کی ہے} [سورۃ النحل، آیت: 89]۔ ان آيات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں دین کے تمام معاملات اور احکام موجود ہیں، اور كتاب نے ان كو مکمل طور پر واضح کیا ہے، تاکہ کسی اور چیز کی ضرورت نہ رہے ،  چاہے سنت ہو يا كچھ اور، اور اگر ايسا نا ہوتویہ كتاب ہر چیز کی وضاحت نہیں سمجھی جائے گی۔

کیا قرآن کریم میں حدیث نبوى کو لھو الحدیث کہا گیا ہے؟

جو بھی چیز قرآن كريم کے مقابلے میں پیش کی جائےیا قرآن كريم  سے مشغول کرے اسے قرآن نے لہو الحدیث کہاہے ۔
اللہ تعالی فرماتا ہے :  (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ) (سورۃ لقمان:6)
ترجمہ: اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
کیونکہ حدیث کو قرآن مجيد  کے مقابلے میں پیش کیاجاتا ہےاور قرآن مجيد اللہ کی راہ ہےتو جو کچھ بھی اللہ کے راہ سے ہٹائےوہ لہو الحدیث ہے!۔

حدیث قول رسول نہیں،بلکہ قول رسول تو قرآن کریم ہے!

حدیث قول رسول نہیں جیسا کہ دعوی کیا جاتا ہے،  قول رسول تو قرآن کریم ہے! کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ حدیث رسول  اللہ ﷺکا قول ہے ، اور قرآن کریم سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول  اللہ ﷺکا قول تو قرآن کریم ہی ہے۔
 اللہ تعالی فرماتا ہے:  إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ( سورۃ الحاقۃ:40 )
ترجمہ: بلاشبہ یہ (قرآن) یقیناً ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے۔

ذخیرہ احادیث میں متواتر احادیث موجود نہیں

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ متواتر احاديث اپنا وجود نہیں رکھتیں ، زیادہ سے زیادہ ایک حدیث : مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ: جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ باندھا تو اسے اپنے جہنم کےٹھکانے کےلیے تیار رہنا چاہیے۔ كو متواتر قرار ديا گيا ہے، یا صرف سترہ احادیث کے بارے میں یہ كہا گيا ہے كہ يہ متواتر ہیں ۔

بحيثيت مسلمان ہمیں صرف مركز ملت كى اطاعت كا حكم ديا گيا ہے

وہ آیات جن میں رسول اللہ ﷺکی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، وہ آپ ﷺکے لیے مخصوص نہیں ہیں، بلکہ ان سے مراد "مركز ملت” كى اطاعت ہے، جو وقت كا حاکم یا امام ہوتا ہے، جو قرآن مجيد كى روشنى ميں امت كى رہنمائی كرتا ہے!

سنت کی تدوین بغیر کسی سابقہ تحریری ریکارڈ کے ہوئی!

اس شبہ کا حاصل  یہ ہے کہ جب احادیث بغیر کسی سابقہ تحریری ریکارڈ کے صرف زبانی جمع کیں گئیں تو ان پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے! یہ کہنا کہ سنت کی تدوین بغیر کسی سابقہ تحریری ریکارڈ کے ہوئی ،علم حدیث سے ناواقفیت کی دلیل ہے کیونکہ احادیث لکھی گئی تھیں جیساکہ سابقہ شبہ(حدیث لکھنے سے نبی ﷺ کی ممانعت!) میں دلائل سے ثابت کیا جا چکاہے تو یہ شبہ جڑسے ہی ختم ہوجاتا ہے۔

احاديث كى جانچ پڑتال كرنے سے دينى روح متاثر ہوتى ہے!

احادیث كے ذخيرہ پر جو علمى  تنقید کی گئی،اس کی وجہ سے وہ روحانيت اور دينى روح کی خصوصیت سے محروم ہو گئے، کیونکہ مذہبی معاملات  ميں لوگوں كى آراءشامل نہیں ہونی چاہئیں!  علم حدیث میں حدیث کی چھان پھٹک کا جو کام ہوا وہ ا س کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ کسی بھی قیمتی چیز کے حصول میں ہر ممکن تحقیق کو بروئے کار لایا جاتا ہے تاکہ اس میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ سے بچا جا سکے۔

قرآن مجيد ميں حديث کو ماننے اور اس پر عمل کرنے سے منع كيا گيا ہے!

الله تعالى نے فرمايا : اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاء ( سورةالاعراف:3 )
ترجمہ: ”اس پرچلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اولیاء کے پیچھے مت چلو” اور فرمايا: فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ( سورةالاعراف:185 )

مسلمانوں كو تو صرف (سنت ابراہیمى) كی اتباع كا حكم ديا گيا ہے۔

 سنت، دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی ﷺ نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ دین کی حیثیت سے جاری فرمایاقرآن ميں آپ کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اللہ تعالى فرماتا ہے: (ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ).   (سورة النحل:123).

  • 1
  • 2