رسول اللہ ﷺ کی ذات سے متعلقہ شکوک و شبہات

کنواری لڑکی سے نکاح کی ترغیب  شان نبوت کے خلاف ہے!

حدیث میں کنواری لڑکی سے نکاح کے بارے میں ترغیب کے لیے جو الفاظ استعمال ہوئے وہ نبی کریم ﷺکے نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ سیدتنا عائشہ سے  روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں عرض کی: اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیں کہ اگر آپ کسی وادی میں پڑاؤ کریں، وہاں ایک درخت ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک ایسا درخت سے اپنے اونٹ کو کھلائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اس درخت سے جو کسی اونٹ کو نہ کھلایا گیا ہو۔“ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا  کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ (صحیح البخاری : 5077)

نبی کریم ﷺ نے سیدنا جابر کو کنواری سے شادی کی ترغیب دلائی!

 حدیث میں ہے کہ جابر بن عبداللہ نے جب ثیبہ عورت سے شادی کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آپ نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔  (صحیح بخاری : 5079) حالانکہ   آپﷺ تو بیواؤں کا سہارا تھے تو پھر کنواری سے شادی کی بات کیوں ؟

ایک عورت نے خود کو نبی کریم ﷺ کے لیے پیش کیا!

حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے خود کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا  ( صحیح بخاری:5113 ) یہ نبی کریم ﷺ کی عظمت اور  عورت کے مقام کے خلاف ہے ۔

نبی کریم ﷺ پر جادو عقل کے خلاف ہے!

حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺپر جادو کیا گیا جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول جاتے تھے (صحیح بخاری: 5765، صحیح مسلم: 2189 )  اس حدیث کو ماننے سے دین ِ اسلام  کے محفوظ ہونے پر شکوک و شبہات وارد ہوتے ہیں اور یہ عقلاً بھی ممکن نہیں کہ نبی کریم ﷺ پر شیطانی اثرات یا جادو کے اثرات غالب آجائیں۔

نبی کریم ﷺ کا ایک رات میں متعدد بیویوں کے پاس جانا عقل، شان نبوت اور نظافت کے اصولوں کے خلاف ہے!

حدیث میں  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات میں تمام بیویوں سے ازدواجی تعلقات قائم کیے۔ ( صحیح بخاری:5068 )
جبکہ عقلی طور پر ایسا ممکن نہیں اور نبی کریم ﷺ تو الله تعالى كى عبادت اور مسلمانوں کے معاملات میں مصروف رہتے، اور یہ معاملہ نظافت کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

نبی کریم ﷺ کے  ام المؤمنين صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح پر کیے گیے اعتراضات

یہ جھوٹ ہے کیونکہ حدیث میں وضاحت ہے کہ نبی کریم ﷺنے  سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا   کو  یہ اختیار دیا تھا کہ چاہیں تو وہ اپنے اہل و عیال کی طرف چلی جائیں یا انہیں آزاد کردیا جائے اور نبی کریم ﷺ ان سے شادی کرلیں۔تو سیدہ صفیہ  رضی اللہ عنہا  نے اِسی کو اختیار کیا۔ (صحیح ابن حبان : 4628)

کم سنی میں نبی کریم ﷺ كا سینہ چاک کیا جانا اور شیطان کا ایمان لانا

حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ کم سنی میں نبی کریم ﷺ کا شق صدر (سینہ چاک) کیا گیااور یہ بھی بیان ہوا ہے کے شیطان بھی آپ ﷺ پر ایمان لے آیا   (دیکھئے : صحیح مسلم : 162 ، 2814  ) یہ دونوں باتیں خلافِ عقل معلوم ہوتی  ہیں كيونكہ انسانی طبیعت میں سینہ کا یوں چاک کیا جانا ممکن نہیں  اس لیے یہ واقعہ  خیالی اور غیر معقول ہے ۔ 

نبی کریم کا کھڑے ہوکر پیشاب کرنا!

 حدیث میں ہےکہ نبی کریم ﷺ نے ايک موقع پر کھڑے ہوکر پیشاب کیا  ۔(صحیح البخاری ،225 ، صحیح مسلم 613 ، ) جبکہ یہ شان ِ نبوت کے منافی ہے اس لیے ایسی احادیث ناقابل قبول ہیں۔

ابوہریرہ ایک خیالی شخصیت کا نام ہے!

ابوہریرہ کے نام میں کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی شخصیت کوئی حقیقی شخصیت نہ تھی بلکہ ایک وہمی شخصیت تھی جس کا حقیقی زندگی میں کوئی وجود نہ تھا۔

حضرت عائشہ سے كم عمرى ميں شادى مناسب نہیں!

حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال کی تھی۔  (صحیح بخاری : 5134 )  اس کم عمری میں عورت کے ساتھ شادی ظلم ہے کیونکہ وہ ابھی اس قابل ہی نہیں ہوئی۔

  • 1
  • 2