قرآن مجيد

قرآنِ مجيد ميں حديث کو ماننے اور اس پر عمل کرنے سے منع كيا گيا ہے!

کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی رسول بھیجے اور اس پر وحی نازل فرمائے اور اس رسول کی اتباع کا حکم بھی دے اور پھر اسی رسول کو اپنا مدِ مقابل بتائے اور اس کی اتباع سے ڈرائے؟! یہ بات تو سراسر عدل و حکمت کے منافی ہے جو کہ اللہ رب العالمین کے حق میں محال ہے۔

صرف قرآن مجيد ہی مكمل دين کى وضاحت كے ليے كافى ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: }ما فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ } [سورة الأنعام، الآية: 38]. ترجمہ: {ہم نے کتاب میں کسی چیز کو نظرانداز نہیں کیا} [سورۃ الانعام، آیت: 38]۔ اور فرماتا ہے: } وَنَزَّلْنَا عَلَيْك الْكِتَاب تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْء {[سورة النحل، الآية: 89].  ترجمہ: {اور ہم نے آپ پر ہر چیز کی وضاحت کرنے والی کتاب نازل کی ہے} [سورۃ النحل، آیت: 89]۔ ان آيات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں دین کے تمام معاملات اور احکام موجود ہیں، اور كتاب نے ان كو مکمل طور پر واضح کیا ہے، تاکہ کسی اور چیز کی ضرورت نہ رہے ،  چاہے سنت ہو يا كچھ اور، اور اگر ايسا نا ہوتویہ كتاب ہر چیز کی وضاحت نہیں سمجھی جائے گی۔

الله تعالیٰ نےصرف قرآن مجيد کی حفاظت کا ذمہ ليا ہے!

مذکورہ آیت سے یہ بات سمجھ آتى ہے کہ الله تعالى نے قرآن مجيد کی حفاظت کا ذمہ ليا، اور اگر حديث نبوى قرآن كريم کی طرح حجت اور دلیل ہوتی تو اس كى بھی حفاظت كا انتظام الله تعالى كى طرف سے ہوتا۔