ملك الموت

جب موت كا وقت مقرر ہے تو پھر عمر میں اضافے کی احادیث كا كيا مطلب؟

قرآنِ کریم میں جہاں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ کسی کی موت کے مقررہ وقت میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے علم میں مقررہ وقت ہے۔ جبکہ قرآنِ کریم کی آیت: (يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ) میں جس چیز کی طرف اشارہ اور احادیث میں جس كمى اور اضافے کا بیان ہے وہ ملک الموت کے علم کے لحاظ سے ہے۔

حضرت موسى عليہ السلام كا ملك الموت كو طمانچہ مارنا اور ان کی آنکھ پھوڑ ڈالنا

 جیسا کہ حدیث میں آتاہےكہ  سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ملک الموت ( آدمی کی شکل میں ) موسی علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے۔ وہ جب آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے ( نہ پہچان کر ) انہیں ایک زور کا طمانچہ مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔  ( صحیح بخاری حديث نمبر:1339) شبہ یہ ہے کہ کسی پیغمبر کی شان سےبعیدہے کہ وہ موت كو ناپسندجانے اور موت کے فرشتے کو بلا وجہ تھپڑ مارے کہ اس کی آنکھ پھوٹ جائے