aurat

عورت کو حکم کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے!

شریعت نے عورت کے حق میں سجدہ کا اسلوب بطورِ مبالغہ استعمال کیا ہے کیوںکہ سجدہ اطاعت و  فرمانبرداری کی اعلی ترین صورت ہے۔ شریعت یہ چاہتی ہے کہ عورت شوہر کے لئے اطاعت و  فرمانبرداری کی اعلیٰ ترین صورت اختیار کرے

حدیث میں عورت کو کم عقل اور کم دین کہا گیا !

مذکورہ کمی الله تعالى کی مرضی سے واقع ہوئی ہے اس میں عورتوں پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا نہ ہی اس حدیث میں عورتوں کی تذلیل یا تضحیک كى گئی بلکہ ان کے لیے ايک عذر پيش كيا گيا ہے كيونكہ ہر عقلمند مرد و عورت کے مابين فرق سے واقف ہوتا ہے۔ عورت كى جسمانی اور جذباتی تشکیل مرد سے مختلف ہے لہٰذا اس حديث ميں ہر ایک کو اپنی مہارت کے میدان میں کام کرنے كى طرف تلقين ہے تاکہ مرد حمل اور دودھ پلانے كے امور میں دخل انداز نہ ہوں اور خواتين جہاد، دشمنوں، خلافت اور امارت کے امور میں نہ آئيں۔

عورت نمازى كے آگے سے گزرے تو نماز ٹوٹ جاتى ہے!

بعض احادیث میں آیا ہے کہ نماز ميں اگر عورت، يا گدھا اور كتا سامنے سے گزریں تو نماز ٹوٹ جاتى ہے، عورت كو دو جانوروں كے ساتھ ذكر كرنا يہ  عورت كے عزت واحترام كے منافى ہے۔

سیدنا سلیمان علیہ السلام ایک رات میں سو بیویوں کے قریب گئے!

حدیث میں ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ایک رات میں سو بیویوں سے ازدواجی تعلقات قائم کیے۔(صحیح بخاری:2819)یہ عقل کے خلاف ہے کیونکہ ایک شخص اتنی بڑی تعداد سے ازدواجی تعلق اور پھر صرف ایک رات میں   ایسا ممکن نہیں ۔ مزید یہ کہ روایات میں تعداد کا اختلاف بھی بتلاتا ہے کہ روایت میں اضطراب ہے۔ بعض میں سو بیویاں  (صحیح بخاری : 2819  ) ، بعض میں 90  بیویاں  (صحیح بخاری : 6639) ، بعض میں 70  بیویاں (صحیح مسلم : 1654) اور بعض میں 60  بیویاں (صحیح بخاری : 7469 )  بیان ہوئی ہیں۔