gunah

چھپکلی مارنے کا حکم کیوں؟

اسلام نے صرف ان جانوروں کے قتل کا حکم دیا جو بری صفات کے حامل یا انسان کی جان کو نقصان پہنچانے والے تھے  کیونکہ انسانیت کی بقا جانور سے زیادہ اہم ہے

رمضان ميں شیطان قید ہونے کے باوجود گناہ کیوں؟

جنات اور شیاطین ہمارے لیے غیب ہے، جس طرح ہم وحی کی بنیاد پر ان کے وجود پر ایمان لاتے ہیں، بالکل اسی طرح وحی میں  ان کے بارے میں دی جانے والی خبروں پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ اس حدیث میں رمضان میں شیاطین کو زنجیروں میں جکڑنے کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔ لہٰذا غیب پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ اس بات پر بھی ایمان لایا جائے۔

قاتل و مقتول دونوں جہنمی كيسے؟

جب  دو مسلمان ایک دوسرے کے خلاف تلوار اٹھائیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے.(صحیح بخارى: 31، صحیح مسلم: 2888) كا كيا مطلب،  جبکہ قرآن کریم میں ہے کہ:
 وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ   ( الحجرات:9 )
ترجمہ: اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو ۔ پھر ان میں سے اگر ایک گروہ دوسرے سے زیادتی کرے تو اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے اور پھر جب وہ اللہ کی طرف پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل اور انصاف سے صلح کرادو،  اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔

آدم علیہ السلام کے بیٹے کو قیامت تک کے قتلوں کا گناہ ملنا

بعض معترضین کا کہنا ہے کہ حدیث میں ہے: لاَ تُقْتَل نَفْسٌ إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا ( صحیح البخاری:6867 )
ترجمہ:قیامت تک ہونے والے قتل کا گناہ آدم کے پہلے بیٹے کوبھی ملتا رہے گا کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کیا۔ جبکہ قرآن کریم میں ہے کہ: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ( الاسراء:15 ) ترجمہ: کوئی نفس کسی نفس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ نیزیہ حدیث اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کے بھی منافی معلوم ہوتی ہے۔

نماز میں امام سے سبقت لے جانے پر سر گدھے کے سر میں بدل جانے کی وعید!

وضاحتِ شبہ: حدیث میں آتا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رحمتِ دو عالم ﷺ کا ارشاد بیان کیا کہ ”امام سے پہلے سجدہ سے جو کوئی سر اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بلا شک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح کر دے گا‘‘۔ (صحیح بخاری : 691، صحیح مسلم…

بندروں کا بندريا كو سنگسار کرنے کا واقعہ!

عمر و بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر یا دیکھی اس کے چاروں طرف بہت سے بندر جمع ہوگئے تھے، اس بندریا نے زنا کیا تھا اس لیے سبھوں نے مل کر اسے رجم کیا اور ان کے ساتھ میں بھی پتھر مارنے میں شریک ہوا ۔
(صحیح بخاری: 3849)
یہ ایک ایسی حدیث ہے جو عقل سے ماورا ہےسوال یہ ہے کہ کیا بندروں کی بھی شریعت ہوتی ہے؟ کیا ان کے بھی نکاح ہوتے ہیں اگر ان میں نکاح ہوتے ہیں توزنا بھی ہوسکتا ہےاوراگر نکاح نہیں تو زنا کیسا ؟