husband

عورت کو حکم کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے!

شریعت نے عورت کے حق میں سجدہ کا اسلوب بطورِ مبالغہ استعمال کیا ہے کیوںکہ سجدہ اطاعت و  فرمانبرداری کی اعلی ترین صورت ہے۔ شریعت یہ چاہتی ہے کہ عورت شوہر کے لئے اطاعت و  فرمانبرداری کی اعلیٰ ترین صورت اختیار کرے

حدیث میں عورت کو کم عقل اور کم دین کہا گیا !

مذکورہ کمی الله تعالى کی مرضی سے واقع ہوئی ہے اس میں عورتوں پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا نہ ہی اس حدیث میں عورتوں کی تذلیل یا تضحیک كى گئی بلکہ ان کے لیے ايک عذر پيش كيا گيا ہے كيونكہ ہر عقلمند مرد و عورت کے مابين فرق سے واقف ہوتا ہے۔ عورت كى جسمانی اور جذباتی تشکیل مرد سے مختلف ہے لہٰذا اس حديث ميں ہر ایک کو اپنی مہارت کے میدان میں کام کرنے كى طرف تلقين ہے تاکہ مرد حمل اور دودھ پلانے كے امور میں دخل انداز نہ ہوں اور خواتين جہاد، دشمنوں، خلافت اور امارت کے امور میں نہ آئيں۔

نبی کریم ﷺ کا ایک رات میں متعدد بیویوں کے پاس جانا عقل، شان نبوت اور نظافت کے اصولوں کے خلاف ہے!

حدیث میں  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات میں تمام بیویوں سے ازدواجی تعلقات قائم کیے۔ ( صحیح بخاری:5068 )
جبکہ عقلی طور پر ایسا ممکن نہیں اور نبی کریم ﷺ تو الله تعالى كى عبادت اور مسلمانوں کے معاملات میں مصروف رہتے، اور یہ معاملہ نظافت کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔