inkar e hadees

امام زہری نے بنو امیہ کی مدد سے احادیث گھڑیں!؟

وضاحت شبہ : معترضین کا کہنا ہے کہ حدیث بنی امیہ کے دور کی پیداوار ہے۔ اس مقصد کے لیے معروف تابعى امام زہری نے بڑا کردار ادا کیا ، ابراہیم بن ولید اموی امام زہری کے پاس ایک صحیفہ لایا جس میں اپنی من پسند روایتیں لکھ لی تھیں اور زہری سے اس کی…

احادیث کو تو جلانے کا حکم ديا گیا!

جب لوگوں نے نبیﷺ سے احادیث بیان کرنے کی اجازت مانگی تو انہیں اجازت دے دى گئی [مسند أحمد : 11092]۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جلانے کا مقصد حدیث کو ختم کروانا نہیں تھا ورنہ اسے روایت کرنے کی اجازت ہی نہ دی جاتی۔ اصل مقصد یہ تھا کہ حدیث اور قرآن ایک جگہ لکھنے کی وجہ سے خلط ملط نہ ہو جائے اور پھر لوگ ان دونوں میں فرق نہ کر پائیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کے لمبے قدپر تعجب !

وضاحت شبہ:  حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی ۔۔۔ آدم…

جب موت كا وقت مقرر ہے تو پھر عمر میں اضافے کی احادیث كا كيا مطلب؟

قرآنِ کریم میں جہاں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ کسی کی موت کے مقررہ وقت میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے علم میں مقررہ وقت ہے۔ جبکہ قرآنِ کریم کی آیت: (يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ) میں جس چیز کی طرف اشارہ اور احادیث میں جس كمى اور اضافے کا بیان ہے وہ ملک الموت کے علم کے لحاظ سے ہے۔

قرآنِ مجيد ميں حديث کو ماننے اور اس پر عمل کرنے سے منع كيا گيا ہے!

کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی رسول بھیجے اور اس پر وحی نازل فرمائے اور اس رسول کی اتباع کا حکم بھی دے اور پھر اسی رسول کو اپنا مدِ مقابل بتائے اور اس کی اتباع سے ڈرائے؟! یہ بات تو سراسر عدل و حکمت کے منافی ہے جو کہ اللہ رب العالمین کے حق میں محال ہے۔

حدیث میں ہے کہ شر (بُرائى) اللہ تعالى کی طرف سے نہیں! یہ بات تو قرآن مجيد سے ٹكراتی ہے۔

قرآن کریم میں ہے کہ ہر معاملے کا واقع ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جبکہ حدیث میں ہے کہ: والشر لیس الیک ( صحیح مسلم ) ترجمہ: شرآپ کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ حدیث قرآن سے ٹکراتی ہے۔ لہذا ناقابل اعتبار ہے۔