jung

کیا نبی ﷺ نے امیر معاویہ کے لیے بد دعا کی؟

حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاویہ کو بلایا  وہ نہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس (امیر معاویہ ) کا پیٹ نہ بھرے۔ ‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امیر معاویہ کے لیے بد دعا کے کلمات  ارشاد فرمائے تھے۔
حدیث میں وارد الفاظ بد دعا نہیں بلکہ اہل عرب کے کلام میں اس قسم کے کلمات بطور محاورہ بول دیے جاتے ہیں ،   جيسا كہ عربى لغت كے علماء نے اس كى وضاحت كى.  ديكھیں: الشفاء للقاضى عياض (2/197)،   شرح النووى (16/152).

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ(نعوذ بالله) باغی تھے ؟

حدیث میں ہے کہ سیدنا عماربن ياسر  رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا،  اور سیدنا عمار كى شہادت معركہ صفين كے موقع پر ہوئی ، وه سيدنا  علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے ،  چنانچہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے  کہ علی رضی اللہ عنہ  کے مقابلہ پر آنے والا لشكر جو كہ امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ كى قيادت ميں تھا وه  باغی تھا۔

قاتل و مقتول دونوں جہنمی كيسے؟

جب  دو مسلمان ایک دوسرے کے خلاف تلوار اٹھائیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے.(صحیح بخارى: 31، صحیح مسلم: 2888) كا كيا مطلب،  جبکہ قرآن کریم میں ہے کہ:
 وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ   ( الحجرات:9 )
ترجمہ: اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو ۔ پھر ان میں سے اگر ایک گروہ دوسرے سے زیادتی کرے تو اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے اور پھر جب وہ اللہ کی طرف پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل اور انصاف سے صلح کرادو،  اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔