muhammad ﷺ

حدیث لکھنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائى!

صحیح مسلم میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے نہ لکھو، اور جس شخص نے میری طرف سے قرآن مجيد کے علاوہ  كچھ لكھا  اسے مٹا دے”۔ (صحیح مسلم: 3004)
چنانچہ اگر حديث دين کے ضرورى امور میں سے ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لکھنے اور جمع کرنے کا حکم دیتے جیسا کہ وہ قرآن مجيد کے ساتھ کیا، نا كہ اس کو مٹانے کا حکم دیتے!

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بوقتِ نکاح عمر کیا تھی؟

نبی کریم  ﷺ نے سیدہ عائشہ سے مکہ میں  نكاح كيا جس وقت  سیدہ عائشہ کی عمر چھ سال تھی، مدینہ میں ہجرت کے پہلے سال رخصتی ہوئی اس وقت سیدہ عائشہ کی عمر نو سال تھی۔ ( صحیح بخاری:  5134، صحیح مسلم:  1422 )
اس حدیث پر اسنادی، عقلی اور تاریخى  لحاظ سے مختلف اعتراضات کیے جاتے ہیں،  ان  اعتراضات کی حقیقت پیشِ خدمت ہے۔

حضرت عائشہ سے كم عمرى ميں شادى مناسب نہیں!

حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال کی تھی۔  (صحیح بخاری : 5134 )  اس کم عمری میں عورت کے ساتھ شادی ظلم ہے کیونکہ وہ ابھی اس قابل ہی نہیں ہوئی۔

کم سنی میں نبی کریم ﷺ كا سینہ چاک کیا جانا اور شیطان کا ایمان لانا

حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ کم سنی میں نبی کریم ﷺ کا شق صدر (سینہ چاک) کیا گیااور یہ بھی بیان ہوا ہے کے شیطان بھی آپ ﷺ پر ایمان لے آیا   (دیکھئے : صحیح مسلم : 162 ، 2814  ) یہ دونوں باتیں خلافِ عقل معلوم ہوتی  ہیں كيونكہ انسانی طبیعت میں سینہ کا یوں چاک کیا جانا ممکن نہیں  اس لیے یہ واقعہ  خیالی اور غیر معقول ہے ۔