ابو طالب کے عذاب میں کمی کیوں؟

وضاحت شبہ:
ایک حدیث میں آتا ہے: جناب عباس بن عبدالمطلب سے روایت ہے، کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کےرسول! کیا  آپ نے ابو طالب (نبى ﷺ کے چچا)  کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے، اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے۔ آپ  ﷺنے جواب دیا: ’’ہاں! وہ کم  گہری آگ میں ہیں (جو ٹخنوں تک آتی ہے)، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔ (بخاری: 6208 ، مسلم: 209)
مذکورہ حدیث قرآن مجید کی دو آیات کے خلاف ہے:
پہلی آیت: ﴿فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ [المدثر : 48]
ترجمہ: ( پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی)۔
دوسری آیت: ﴿خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ﴾ [آل عمران : 88]
ترجمہ:  (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ تو ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی اور انہیں مہلت دی جائے گی)۔

 

جواب شبہ

پہلی بات:
مذکورہ حدیث دو صحابہ سے روایت ہے، جناب عباس بن عبد المطلب اور جناب ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما، اور دونوں کی حدیث صحیح بخاری اور مسلم میں موجود ہے لہٰذا حدیث بالکل ثابت ہے، اس کی سند میں کوئی کلام نہیں۔

دوسری بات:
یہ بات مسلم ہے کہ جہنم میں تمام کافروں کو ایک جیسا عذاب نہیں ہوگا بلکہ بعض کا عذاب شدید اور بعض کا عذاب اس سے کم ہوگا البتہ تمام کافر اس بات میں یکساں ہوں گے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ عذاب میں شدت یا کمی ان کی دنیوی زندگی کے حساب سے ہوگی، جس نے زمین پر فساد یا دینِ اسلام کونقصان پہنچایا ہوگا اس کا عذاب سخت ہوگا اور جو فتنہ وفساد میں ملوث نہیں ہوگا اس کا عذاب کم ہوگا۔ ابو طالب کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں نبیﷺ کی ہر ممکن مدد کی اور ہر جگہ آپﷺ کا دفاع کیا بلکہ وہ اپنے دل میں بھی اسلام کو حق دین سمجھتے تھے لیکن اسلام قبول نہیں کیا تو ایسے شخص کے عذاب میں کمی آنا کوئی تعجب والی بات نہیں۔

تیسری بات:
حدیث میں ابو طالب كے لیے جس شفاعت کا ذکر ہے وہ نبیﷺ کی خصوصیات میں سے ہے لہٰذا یہ شفاعت اس شفاعت سے مستثنیٰ ہے جس کی قرآن مجید میں نفی کی گئی ہے۔ اس طرح یہ حدیث قرآن کے مخالف نہیں بلکہ اس کے حکم کو خاص کرتی ہے ۔ حدیث بھی چونکہ اللہ کی وحی ہے لہٰذا وہ بھی قرآن کے حکم کو خاص یا منسوخ کر سکتی ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی رو سے مردار حرام ہے  (سورة البقرة: 173) جبکہ حدیث میں مچھلی کو مردار سے مستثنیٰ کیا گیا ہے (سنن ابن ماجہ 3218)،  اب اگر حدیث کو نہ لیا جائے تو قرآن کی رو سے مچھلی حرام ہوئی!

اسى طرح قرآن کی آیت میں ذکر ہے : (جو مرد اور عورت چوری کرے ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دالو،ان کے کردار کے عوض میں بطور سزا کے اللہ کی طرف سے)  المائده 38.

اس آیت میں ہاتھ كاٹنے کا حکم عام ہے لیکن حديث نے اس كى یوں تخصیص کردی ہے کہ چور کا ہاتھ چوتھائی دیناریا اس سے زیادہ مالیت کی چوری پر کاٹاجائے. (موجودہ وزن کے اعتبار سے ایک دینار کا وزن تقریبا سوا چار گرام سونا ہے، تو اس کا چوتھائی (1.06) گرام ہے)۔

چوتھی بات:
قرآن کی آیت میں جو یہ ذکر ہے کہ کافروں کو سفارش فائدہ نہیں دے گی اس سے مراد ایسا فائدہ جو انہیں جہنم سے نکال سکے اور جنت میں داخل کر سکے جبکہ ابو طالب کی سفارش اس طرح کی نہیں ہوگی کہ انہیں جہنم سے نکال دے، اس طرح آیت اور حدیث میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔

پانچویں بات:
دوسری آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ کافروں کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی، یہاں تخفیف سے مراد ان کے عذاب میں وقفہ نہیں آئے گا یعنی عذاب مسلسل جاری رہے گا(دیکھیں تفسیر ابنِ کثیر : 2/ 71) اس کی مزید تائید ایک اور آیت سے ہوتی :

﴿وَقَالَ الَّذِينَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ﴾ [المؤمن : 49]

ترجمہ: (اور وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے جہنم کے نگرانوں سے کہیں گے اپنے رب سے دعا کرو، وہ ہمارے عذاب میں ایک دن کی تخفیف کر دے)۔

اس آیت میں بھی عذاب کی تخفیف کا ذکر ہے اور تخفیف سے مراد ہمارے عذاب میں ایک دن کا وقفہ آ جائے۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ آیت میں عذاب کی تخفیف سے مراد عذاب میں وقفہ ہے تو آیت اور حدیث میں کوئی ٹکراؤ نہیں بلکہ باقی کافروں کی طرح ابو طالب کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں آئے گا۔

چھٹی بات :
ابو طالب کے عذاب میں جو تخفیف ہے وہ ظاہری شکل وصورت میں ہوگی ورنہ حقیقت میں تو وہ عذاب انتہائی شدید ہوگا، جس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ان کے پاؤں میں آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جس سے ابو طالب کا دماغ کھول رہا ہوگا اور انہیں یہ محسوس ہوگا کہ کسی کا عذاب بھی ان سے سخت نہیں۔ (دیکھیں: صحیح مسلم :  212,213)

بدھ 22 جمادی الاول 1445هـ 6-12-2023م
Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے