احادیث کو تو جلانے کا حکم ديا گیا!

وضاحتِ شبہ :
بعض روایات میں احادیث کو جلانے کا ذکر ملتا ہے جو درج ذیل ہیں:
جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کی احادیث لکھنے کے لیے بیٹھے تھے تو آپ ﷺ نے آ کر ہم سے پوچھا: تم لوگ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا: جو کچھ آپ ﷺ سے سنتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی کتاب کے ساتھ ایک اور کتاب؟ کتاب اللہ کو خالص رکھو۔ چنانچہ جو کچھ ہم نے لکھا تھا اسے ایک میدان میں جمع کیا پھر اسے آگ لگا دی۔ [حوالہ: مسند أحمد : 11092]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے والد جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے پانچ سو احادیث جلا دی تھیں۔[حوالہ: تذكرة الحفاظ للذهبي : 1/ 10 – 11 ، كنز العمال للمتقي الهندي : 10/ 285 رقم 29460]
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین کے زمانے میں احادیث بہت زیادہ ہو گئی تھیں تو انہوں لوگوں سے وہ کتابیں منگوائیں اور پھر انہیں جلوا دیا۔
[حوالہ: الطبقات الكبرى لابن سعد : 7/ 187 ، تقييد العلم للخطيب البغدادي ، رقم الأثر : 72]
ان روایات کو بنیاد بنا کر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نبی ﷺ اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے احادیث کو جلا ڈالا تھا اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب ان کے نزدیک احادیث حجت نہ ہوں!
جوابِ شبہ

 

پہلی بات:
مذکورہ تینوں احادیث و آثار سند کے اعتبار سے ثابت نہیں ہیں لہٰذا ان کی بنیاد پر کیا گیا دعویٰ باطل قرار پاتا ہے۔ ذیل میں بالترتیب ان کے ضعف کی کچھ تفصیل مذکور ہے:

  • جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی سند میں ایک راوی جس کا نام عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم ہے اس کے بارے میں امام بزار فرماتے ہیں کہ اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ اسی لیے امام ذہبی نے اس حدیث کو منکر کہا ہے۔[حوالہ جات: مسند البزار : 15/ 277 رقم 8763 ، ميزان الاعتدال للذهبي : 2/ 565]
  • جناب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی روایت کے ایک راوی علی بن صالح کو حافظ ابنِ کثیر نے مجہول جبکہ دوسرے راوی موسیٰ بن عبد اللہ کو امام بخاری نے ضعیف قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ذہبی اور حافظ ابنِ کثیر نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔[حوالہ جات: كنز العمال للمتقي الهندي : 10/ 286 ، الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 9/ 543 ، تذكرة الحفاظ للذهبي : 1/ 11]
  • جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت سند میں انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اس کے راوی قاسم بن محمد نے جناب عمر بن خطاب رضی اللہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ ان کی پیدائش ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی ہے۔[حوالہ جات: سير أعلام النبلاء للذهبي : 5/ 54 ، فتح الباري لابن حجر : 16/ 94]

دوسری بات:
جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو اگر صحیح تسلیم کر لیا جائے تب بھی اس سے مذکورہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے پہلی بات تو یہ کہ اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ انہیں جلانے کا حکم نبیﷺ نے دیا تھا بلکہ یہ ان کا اپنا فعل تھا۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ حکم نبیﷺ کی جانب سے تھا تب بھی اس کا مقصد حدیث کو ختم کروانا نہیں تھا بلکہ خود اس روایت میں آگے یہ موجود ہے کہ جب لوگوں نے نبیﷺ سے احادیث بیان کرنے کی اجازت مانگی تو انہیں اجازت دے دى گئی [مسند أحمد : 11092]۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جلانے کا مقصد حدیث کو ختم کروانا نہیں تھا ورنہ اسے روایت کرنے کی اجازت ہی نہ دی جاتی۔ اصل مقصد یہ تھا کہ حدیث اور قرآن ایک جگہ لکھنے کی وجہ سے خلط ملط نہ ہو جائے اور پھر لوگ ان دونوں میں فرق نہ کر پائیں۔ اسی لئے نبیﷺ نے یہ فرمایا:” اللہ کی کتاب کے ساتھ ایک اور کتاب؟ کتاب اللہ کو خالص رکھو” [دفع أباطيل د. مصطفى محمود : 66]۔

تیسری بات:
جناب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی روایت میں خود یہ مذکور ہے کہ انہوں نے وہ پانچ سو احادیث جلائی تھیں جو انہوں نے نبیﷺ سے براہِ راست نہیں سنی تھیں بلکہ کسی شخص کے واسطے سے سنی تھیں اور انہیں یہ اندیشہ تھا کہ ممکن ہے وہ روایت اس طرح نہ ہوں جیسی اس شخص نے انہیں بیان کی تھیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف وہ احادیث جلائی تھیں جن کی صحت میں انہیں شک تھا [تذكرة الحفاظ للذهبي : 1/ 11]۔

چوتھی بات:
جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی احاديث جلانے سے متعلق مفصل روایت خطیب بغدادی کی کتاب تقييد العلم میں ہے۔ اس روایت کے الفاظ اور اس باب کی دیگر روایات کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن کتابوں کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جلوایا تھا وہ احادیثِ نبویہ پر مشتمل کتابیں نہیں تھیں بلکہ یہ وہ کتابیں تھیں  جو بنی اسرائیلی روایات، قصے کہانیوں اور اہلِ علم کی آراء اور ان کے فتاویٰ جات پر مشتمل تھیں۔ سیدنا عمر کے زمانے میں ایسی کتب عام ہونے لگی تھیں اور ابھی تک قرآن مجید کے تیار شدہ نسخے لوگوں کے ہاتھوں میں موجود نہ تھے۔ ایسے میں اگر اس طرح کی کتب عام ہونے لگتیں تو اس بات کا قوی امکان تھا کہ کہیں لوگ ان کتابوں کو قرآن مجید والی حیثیت دے کر پڑھنا پڑھانا شروع نہ ہو جائیں۔ لہٰذا اس کی روک تھام کے لیے جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ حکیمانہ اقدام اٹھایا۔ اسی بات کی طرف اشارہ خطیب بغدادی نے اس باب کے آخر میں بھی کیا ہے۔[تفصیل کےلیے ملاحظہ ہو: تقييد العلم للخطيب البغدادي (ص : 133) ، المفصل في تاريخ العرب قبل الإسلام لجواد علي : 15/ 326]

پانچویں بات:
جیسا کہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ یہ تینوں روایات ضعیف ہونے کی وجہ سے قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ اس کے برعکس صحیح روایات میں ان تینوں حضرات صحابہ سے احادیث کو لکھوانا ثابت ہے:

  • نبیﷺ نے جناب عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو احادیث لکھنے کی اجازت دی [سنن أبي داود : 3646]۔ اسی طرح فتحِ مکہ کے موقع پر ایک یمنی شخص ابو شاہ کے مطالبے پر اس کے لیے احادیث لکھنے کا حکم دیا [صحيح البخاري : 2434 ، صحيح مسلم : 1355]۔
  • جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو جب بحرین روانہ کیا تو انہیں زکاۃ سے متعلق نبیﷺ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی احکامات لکھ کر دیے [صحيح البخاري : 1454]۔
  • جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کی حدیث لکھ کر فاتحِ آذربائیجان جناب عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجی [صحيح البخاري : 5828 ، صحيح مسلم : 2069]۔

چھٹی بات:
یہ کہنا کہ احادیث چونکہ ان کے نزدیک حجت نہیں تھیں اس لیے جلا دی تھیں، ایک غلط  فہمی ہے۔ ہر ذی شعور یہ جانتا ہے کہ کسی چیز کے حجت ہونے یا نہ ہونے کا تعلق اس کے لکھنے یا نہ لکھنے یا لکھ کر جلا دینے سے نہیں ہوتا۔ جو چیز حجت ہوتی ہے وہ لکھنے سے پہلے بھی حجت ہوتی ہے اور لکھنے کے بعد بھی۔ اسی طرح جو چیز حجت نہیں ہے وہ لکھوانے سے حجت نہیں بن جاتی۔ لکھنے یا نہ لکھنے کا تعلق اس کی حفاظت سے ہوتا ہے نہ کہ حجیت سے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید اس وقت بھی حجت تھا جب وہ باقاعدہ مصحف میں نہیں لکھا گیا تھا۔ اس کی حجیت اس وجہ سے تھی کہ وہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے بالکل اسی طرح حدیث کی حجیت بھی اس لیے ہے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے جن کے بارے میں خود قرآنِ مجید کی گواہی ہے کہ وہ اللہ کی وحی کے بغیر نہیں بولتے [سورة النجم : 3 – 4]۔ پس ثابت ہوا کہ احادیث کو نہ لکھنا یا دیر سے لکھنا یا لکھ کر جلا دینا، ان تمام باتوں سے حدیث کی حجیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ساتویں بات:
احادیث کو جلانے سے صرف اس کی لکھی ہوئی شکل ضائع ہوتی ہے جبکہ احادیث تو لوگوں کے سینوں میں بھی محفوظ تھیں۔ دعوے کے مطابق اگر احادیث کو ختم کروانا مقصود تھا تو صرف جلانے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ تو حاصل نہ ہوا۔ فائدہ تو تب ہوتا جب ایسا حکم نامہ جاری کیا جاتا جس میں احادیث بیان کرنے پر ہی پابندی عائد کر دی جاتی جبکہ یہاں اس کے برعکس ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں لوگوں کو احادیث بیان کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے! جس سے معلوم ہوتا ہے کہ احادیث کو جلانے یا اسے مٹانے کا حکم وقتی اور شروع اسلام میں تھا جب قرآن مجید ایک کتابی شکل میں موجود نہ تھا اور خدشہ تھا کہ قرآن وحدیث ایک جگہ لکھنے سے خلط ملط نہ ہو جائیں۔ بعد میں جب یہ خدشہ زائل ہو گیا تو احادیث لکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

آٹھویں بات:
یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اگر احادیث جلانے سے ضائع ہو گئی تھیں تو مذکورہ حدیث جلنے سے کیسے محفوظ رہی؟ اگر یہ کہا جائے کہ احادیث کو بعد میں لوگوں نے گھڑ کر نبیﷺ کی طرف منسوب کر دیا ہے تو بعینہ یہی بات اس حدیث پر بھی صادق آ سکتی ہے جس میں احادیث مٹانے یا جلانے کا حکم موجود ہے!جب یہ حدیث احادیث کی عدمِ حفاظت کی دلیل بن سکتی ہے تو احادیث کو لکھوانے والی احادیث، احادیث کے محفوظ ہونے کی دلیل کیوں نہیں بن سکتی؟

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے