بکری کا قرآنی آیات کھا جانا

وضاحت شبہ:   ایک حدیث میں ہے أم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رجم کی آیت اوربڑی عمر کے آدمی کو دس بار دودھ پلانے کی آیت اتری،اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پہ لکھی ہوئی میری چار پائی کے نیچے تھیں،جب ہم آپ ﷺ کی وفات میں مشغول تھے ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھاگئی۔( سنن ابن ماجہ:1944)
یہ حدیث قرآن مجید کی اس آیت سے ٹکراتی ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ [الحجر : 9]
ترجمہ: ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
یہ کیسے ممکن ہےکہ جس قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ہو اس کی بعض آیات اس طرح ضائع ہو جائیں؟
جواب شبہ

پہلی بات:
مذکورہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ سنن ابنِ ماجہ (1944) اور مسند احمد (26316) وغیرہ میں موجود ہے، حدیث کے ان الفاظ کو اکثر محدثین نے راوی (محمد بن اسحاق) کی غلطی کی وجہ سے ضعیف کہا ہے، یہی حدیث صحیح مسلم (1452) اور دیگر کتب میں بھی موجود ہے لیکن وہ ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں:

كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِﷺ، وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ.

ترجمہ: قرآنِ مجید میں نازل ہوا تھا کہ دس یقینی رضعات سے حرمت لازم ٹھہرتی ہے۔ پھر ان رضعات کو پانچ یقینی رضعات سے منسوخ کر دیا گیا اور رسول اللہﷺ کی وفات تک (بعض لوگ) ان کی قرآن کی طرح قراءت کرتے تھے۔

ان الفاظ میں بکری کا قرآنی آیات کھانے کا کوئی ذکر نہیں، حدیث کے اکثر راویوں نے یہی الفاظ ذکر کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بکری والا قصہ درست نہیں بلکہ راوی کی غلطی ہے۔

دوسری بات:
جب یہ ثابت ہو گیا کہ بکری کا قرآنی آیات کے کھانے والا قصہ درست نہیں تو  اس حدیث کا قرآنی آیت کے ساتھ ٹکرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ کسی بھی دو چیزوں میں ٹکراؤ ثابت کرنے سے پہلے ان کا ثابت ہونا ضروری ہے۔

تیسری بات:
اگر حدیث کے مذکورہ الفاظ کو صحیح مان بھی لیا جائے تب بھی اس قصہ میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے قرآن کی حفاظت پر حرف آتا ہو کیونکہ جن دو آیات کے بارے میں یہ ذکر ہے وہ بکری کھا گئی تھی ان دونوں آیات کی تلاوت منسوخ ہو چکی تھی لہٰذا اب وہ قرآن کا حصّہ نہ رہی تھیں اس لئے ان کے ضائع ہو جانے سے قرآن میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی۔

چوتھی بات:
اس قصہ سے قرآن کی حفاظت پر سوال تو تب اٹھتا جب قرآن کی حفاظت کا سارا انحصار لکھنے پر ہوتا لیکن جیسا کہ یہ بات معلوم ہے کہ قرآن مجید کی حفاظت صرف لکھ کر نہیں ہوئی بلکہ وہ تو سینوں میں بھی محفوظ تھا، بلکہ نبیﷺ کی وفات تک قرآن مجید ایک مصحف (کتابی شکل) میں جمع نہیں ہوا تھا، لہٰذا کسی صفحہ کا اس طرح ضائع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں اور نہ ہی اس سے قرآن کی حفاظت پر کوئی حرف آتا ہے۔

پانچویں بات:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ اس صفحہ پر فلاں اور فلاں آیات تھیں اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں وہ دونوں آیات یاد تھیں، لہٰذا اگر ان آیات کا قرآن میں لکھوانا ضروری ہوتا تو آپ انہیں اپنے حافظہ سے لکھوا سکتی تھیں لیکن چونکہ وہ جانتی تھیں کہ ان کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے لہٰذا انہوں نے لکھوانے کا اہتمام نہیں کروایا۔

چھٹی بات:
جیسا کہ ذکر ہو چکا کہ ان دونوں آیات کی تلاوت چونکہ منسوخ ہو چکی تھی  ، تو ان کے اس ضائع ہونے میں یہ حکمتِ الہٰی ہو سکتی ہے کہ کہ وہ دونوں آیات قرآن میں شامل نہ ہو جائیں، اس طرح یہ قصہ قرآن کی حفاظت کی دلیل ہے نہ کہ اس کے غیر محفوظ ہونے کی۔

ساتویں بات:
یہاں یہ بات جاننا بھی انتہائی ضروری ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات کا منسوخ ہو جانا بالکل برحق ہے، اور  اس منسوخ ہونے کی تین صورتیں ہیں:

  • کسی آیت کی تلاوت اور اس میں موجود حکم دونوں منسوخ ہو جائیں۔

اس کی مثال دس مرتبہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہونے والی آیت ہے ، اب نہ تو یہ آیت موجود ہے اور نہ ہی اس کا حکم برقرار ہے،حدیث کے الفاظ جواب کے آغاز میں ملاحظہ کریں.

یہ وہ پہلی آیت ہے جس کو حدیث کے مطابق بکری کھا گئی تھی۔

  • کسی آیت کی تلاوت منسوخ ہو جائے لیکن حکم باقی رہے۔

اس کی مثال شادی شدہ زانی کو رجم کرنے والی آیت ہے، اب وہ آیت موجود نہیں  اس کی تلاوت منسوخ ہے لیکن اس کا حکم قیامت تک کے لیے باقی ہے.

عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اور آپ پر کتاب نازل کی، آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا اس میں آیت رجم بھی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، (لیکن) مجھے اندیشہ ہے کہ جب لوگوں پر زمانہ دراز ہو جائے گا تو کہنے والے کہیں گے: اللہ کی کتاب میں ہم رجم کا حکم نہیں پاتے، ایسے لوگ اللہ کا نازل کردہ ایک فریضہ چھوڑنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے، خبردار! جب زانی شادی شدہ ہو اور گواہ موجود ہوں، یا جس عورت کے ساتھ زنا کیا گیا ہو وہ حاملہ ہو جائے، یا زانی خود اعتراف کر لے تو رجم کرنا واجب ہے۔  دیکھیں:صحيح بخارى (6830)، صحيح مسلم (1691)، جامع ترمذى (1432).

یہ وہ دوسری آیت ہے جس کو حدیث کے مطابق بکری کھا گئی تھی۔

  • کسی آیت کی تلاوت باقی رہے لیکن حکم منسوخ ہو جائے۔

اس کی بہت سی مثالیں ہیں ، مثلاً سورۃ البقرۃ کی آیت240 جس میں بیوہ کی عدت ایک سال بتائی گئی ہے جو کہ بعد میں چار ماہ دس دن سے منسوخ ہو گئی۔ دیکھیں:صحيح بخارى (4530).

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے