بندروں کا بندريا كو سنگسار کرنے کا واقعہ!

وضاحتِ شبہ:
عمر و بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا دیکھی۔ اس کے چاروں طرف بہت سے بندر جمع ہو گئے تھے۔ اس بندریا نے زنا کیا تھا اس لیے سبھوں نے مل کر اسے رجم کیا اور ان کے ساتھ میں بھی پتھر مارنے میں شریک ہوا ۔
(صحیح بخاری : 3849)
یہ ایک ایسی حدیث ہے جو عقل سے ماورا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بندروں کی بھی شریعت ہوتی ہے؟ کیا ان کے بھی نکاح ہوتے ہیں اگر ان میں نکاح ہوتے ہیں تو زنا بھی ہو سکتا ہے اور اگر نکاح نہیں تو زنا کیسا ؟
جوابِ شبہ

 

پہلى بات:
روایتِ مذکوره نہ تو حدیثِ رسول ہے (حدیث رسول الله ﷺ کے قول و فعل و تقریر اور آپکی صفات کو کہتے ہیں) اور نہ اثرِ صحابی (صحابیِ رسول کے قول و فعل کو کہتے ہیں) بلکہ ایک تابعی کا قول وہ بھی انکے اسلام لانے سے پہلے کے مشاہدے کے بارے میں جیسا کہ روایت کے الفاظ سے واضح ہے۔ عمرو بن میمون مخضرم  (جس نے  قبل از اسلام  كا زمانہ پايا اور پھر اسلام قبول كرليا ليكن نبى ﷺ سے ملاقات نہ كر سكے) تابعی ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔ (دیکھئے: تقریب التھذیب : 427)۔
تو یہ قصہ کسی طرح بھی حدیث پر طعن کا موجب نہیں اور امام بخاری رحمہ الله نے اس واقعے کا ذکر عمرو بن میمون کو مخضرم ثابت کرنے کے لئے کیا نہ کہ اس واقعہ کا ذکر حیوان کو مکلف ٹھہرانے کے لیے یا رجم کی سزا ثابت کرنے کے لئے کیا۔

دوسرى بات:
یہ بات صرف اندازے سے ہی کہی جا سکتی ہے کیونکہ بندر بات تو کرتے نہیں تو یہ عین ممکن ہے کے انہوں نے بندروں کو ایک بندر کو پتھر مارتے ہوئے پایا اور یہ سمجھا کہ وہ زنا کی پاداش ميں اسے سنگسار کر رہے ہیں یا کوئی ایسی نشانی دیکھی ہو جس سے ان پر یہ واضح ہوا ہو کہ اس نے زنا ہی کیا ہے کیونکہ عرب کے یہاں بندر بڑا زانی جانور شمار کیا جاتا ہے ۔

تيسرى بات:
 یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بندروں کی شکل میں جن تھے جیسا کہ حافظ ابن عبد البر کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’یہ بندر جن تھے‘‘ (دیکھئے: فتح الباری : 7/160) ۔
کیونکہ جن بھی شریعت کے مکلف ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (سورة الذاریات : 56)

ترجمہ: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔

اور جنوں کا جانوروں کی شکل اختیار کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے تو اس واقعے میں اشکال جڑ سے ختم ہو جاتا ہے ۔
ابو سائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی۔ میں نے ( جھانک کر ) دیکھا تو ( وہاں ) سانپ موجود تھا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ ( کیوں کھڑے ہو گئے ) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے۔ انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا۔ غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے۔ وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا تو اس کی طرف نیزہ لہرایا ( چلو اندر چلو۔ یہاں کیسے کھڑی ہو ) بیوی نے کہا: جلدی نہ کرو پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا۔ وہ تڑپ رہا تھا۔ ابو سعید کہتے ہیں: تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ ( گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا ) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی ( ساتھی ) کو لوٹا دے ( زندہ کر دے )۔ آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ( اب زندگی ملنے سے رہی ) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے۔ تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو ( سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں ) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے۔ اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو ۔ (سنن ابو داود : 5257)

چوتھى بات:
 اگر اس واقعے میں کچھ اچھنبےکی بات ہے اور یہ ماورائے عقل ہے تو قرآن کے اس قصے کے بارے میں کیا کہا جائے گا کہ جب قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا تھا اور مارنے کے بعد حیران تھا کہ کیا کرے تو اللہ تعالى نے ایک کوّا بھیجا جیسے قرآن میں ذکر ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: 

فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ  ( سورہ المائدہ:30-31 )

ترجمہ: پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا۔ اس نے اسے قتل کر ڈالا جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دے۔ وہ کہنے لگا ہائے افسوس کہ میں ایسا کرنے سے بھی گیا گزرا ہو گیا ہوں کہ اس کوے کی طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دیتا پھر تو (بڑا ہی) پشیمان اور شرمندہ ہوگیا۔

تو جس طرح اللہ کی قدرت کا ایک نمونہ بغرضِ تعلیم و عبرت وجود میں آیا اور ایک کوّے نے دوسرے کو دفن کیا اسی طرح ایک تابعی کے دل میں اسلام کی خوبی ڈالنے کے لئے انکے مشاہدے میں یہ واقعہ لایا گیا۔

پانچويں بات:
جانوروں میں بھی غیرت پائی جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے پر اس لئے حملہ آور بھی ہوتے اگر کوئی اپنی مادہ کے علاوہ کسی اور کی مادہ کے قریب جائے اور کیونکہ بندر اور انسان میں بہت مشابہت ہے مثلا: اسکی چال ڈھال وغیرہ تو اس میں انسان کی طرح اپنے ساتھی پر شدید غیرت بھی کچھ بعید نہیں۔

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے