گائے کے گوشت میں بیماری اور میڈیکل سائنس

وضاحت شبہ :
بعض احادیث میں آتا ہے کہ گائے کے گوشت میں بیماری ہے جبکہ یہ بات میڈیکل سائنس کے خلاف ہے۔
جوابِ شبہ

پہلی بات:
گائے کے گوشت میں بیماری کے بارے میں مختلف صحابہ سے احادیث مروی ہیں جن میں ملیکہ بنت عمرو اور جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث قابلِ ذکر ہیں۔

ملیکہ بنتِ عمرو کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

أَلْبَانُهَا شِفَاءٌ، وَسَمْنُهَا دَوَاءٌ، وَلَحْمُهَا دَاءٌ [مسند ابن الجعد : 2683]

ترجمہ: (گائے) کا دودھ شفاء، اس کا مکھن دواء اور اس کا گوشت بیماری ہے۔

جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

عَلَيْكُمْ بأَلْبَانِ الْبَقَرِ وَسُمْنَانِهَا، وَإِيَّاكُمْ وَلُحُومَهَا؛ فَإِنَّ أَلْبَانَهَا وَسُمْنَانَهَا دَوَاءٌ وَشِفَاءٌ، وَلُحُومَهَا دَاءٌ [مستدك حاكم : 8475]

ترجمہ: تم گائے کے دودھ اور مکھن کو لازم پکڑو اور اس کے گوشت سے بچو کیونکہ اس کا دودھ اور مکھن دواء اور شفاء ہے اور اس کا گوشت بیماری ہے۔

دوسری بات:
مذکورہ دونوں احادیث کو اکثر محدثین نے سند کے اعتبار سے ضعیف کہا ہے۔ ضعیف کہنے والوں میں امام زرکشی، حافظ ابنِ حجر اور امام سخاوی شامل ہیں۔

حوالہ جات: التذكرة في الأحاديث المشتهرة للزركشي (ص : 148) ، الإمتاع بالأربعين المتباينة السماع لابن حجر (ص : 100) ، المقاصد الحسنة للسخاوي (722) ، (863)

تیسری بات:
جب یہ ثابت ہو گیا کہ مذکورہ احادیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں تو تعارض باقی نہیں رہتا کیونکہ کسی بھی دو چیزوں کے درمیان تعارض ثابت کرنے کے لئے دونوں کا ثابت ہونا ضروری ہے۔ یہاں پر چونکہ حدیث ثابت ہی نہیں ہے لہٰذا تعارض کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چوتھی بات:
بعض علماء نے حدیث کو قرآن و حدیث کے ساتھ واضح ٹکرانے کی وجہ سے بھی ضعیف کہا ہے۔ وہ ایسے کہ قرآن مجید میں گائے کے گوشت کو حلال کہا گیا ہے اور ایسی چیز حلال نہیں کی جا سکتی جو بیماری اور نقصان دہ ہو۔ اسی طرح حدیث میں ثابت ہے کہ نبیﷺ نے گائے کی قربانی کی اور جو چیز بیماری ہو اس کی قربانی کیوں کر ممکن ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث میڈیکل سائنس سے پہلے قرآن و حدیث کے واضح مخالف ہونے کی وجہ سے ہی ضعیف ہے۔

حوالہ جات: لقاء الباب المفتوح از شيخ ابن عثيمين (رقم اللقاء : 182)

پانچویں بات:
بعض محدثین جیسے شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح بھی قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک حدیث کا معنیٰ گائے کا گوشت کثرت سے کھانا بیماری ہے یا پھر یہ بات ایسے علاقے والوں کے لئے ہے جہاں کا موسم خشک ہے جیسے مکہ و مدینہ وغیرہ۔ وہ اس لئے کہ گائے کے گوشت میں خشکی ہوتی ہے لہٰذا خشک علاقے والے اگر گائے کا گوشت کھائیں گے تو ان کے جسم کی خشکی میں اضافے کا سبب بنے گا۔ و اللہ اعلم

حوالہ جات: سلسلة الأحاديث الصحيحة للألباني (1533) (1943) ، سلسلة الهدى و النور للألباني (شريط : 236) ، المنهاج في شعب الإيمان للحليمي (2/ 31)

چھٹی بات:
اگر حدیث کے الفاظ پر غور کیا جائے تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں جو قرآن و حدیث یا کسی سائنسی حقیقت سے ٹکراتی ہو کیونکہ حدیث میں گائے کے گوشت کو مطلقاً بیماری یا نقصان دہ نہیں کہا بلکہ اس کے دودھ اور مکھن کے مقابلے میں بیماری کہا ہے جس سے سمجھ آتا ہے کہ گائے کے دودھ اور مکھن کے مقابلے میں اس کے گوشت کی افادیت کم ہے۔

ساتویں بات:
جہاں تک سائنس کے مخالف ہونے کی بات ہے تو آج کی میڈیکل سائنس بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ گائے کا گوشت جہاں جسم کو پروٹین فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے وہاں یہ جسم کے کولیسٹرول(Cholesterol) میں اضافے کا سبب بھی ہے جو رگوں میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے جس سے جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ آج سائنس تسلیم کرتی ہے کہ لال گوشت (Red Meat) کے مقابلے میں سفید گوشت (White Meat) زیادہ مفید ہے۔

خلاصہِ کلام یہ کہ اگر حدیث کو ضعیف مانا جائے تب تو میڈیکل سائنس سے ٹکراؤ کا سوال ہی نہیں اور اگر صحیح مانا جائے تب بھی اس کا ایسا معنیٰ کیا جا سکتا ہے جس سے ٹکراؤ باقی نہیں رہتا.

اور ويسے بھی احاديث مباركہ كو آئے روز بدلتے ہوے مشاہداتى اور تجرباتى علم سائنس پر پرکھنا كوئی علمى انداز نہیں  ۔

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے