حضرت آدم علیہ السلام کے لمبے قدپر تعجب !

وضاحت شبہ:  حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی ۔۔۔ آدم علیہ السلام کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔(صحیح بخاری:3326، صحیح مسلم:2841)
یہ بات سمجھ نہیں آتی عقل سے اسکا تصور انتہائی مشکل ہےکہ کسی انسان کا قداتنا لمباہو ؟!
جواب شبہ

پہلی بات:
 مذکورہ حدیث صحیح بخاری اور مسلم میں موجود ہے جن کے صحیح ہونے پر امت کا اتفاق ہے لہٰذا اس حدیث  كى صحت میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

دوسری بات:
مذکورہ حدیث حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور پیدائش سے تعلق رکھتی ہے اور یہ معاملات ہمارے لئے غیب ہیں، جس طرح ہم غیب کی دیگر باتوں پر ایمان لاتے ہیں چاہے عقل تسلیم کرے یا نہ کرے اسی طرح اس بات پر بھی ایمان لانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ﴾ [البقرة : 3]

ترجمہ: وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے اور اس میں سے، جو ہم نے انھیں دیا ہے، خرچ کرتے ہیں ۔

تیسری بات:
قرآن مجید میں سیدنا آدم علیہ السلام کی ایسی بہت سی خوبیاں اور خصوصیات کا ذکر ہے جو کسی اور انسان کو نہیں عطا ہوئیں، جیسے: انہیں پہلا انسان بنایا، انہیں بغیر ماں باپ کے پیدا کیا، ان کی تخلیق اللہ نے اپنے ہاتھوں سے فرمائی، ان کی تخلیق مٹی سے ہوئی، ان کےلئے فرشتوں سے سجدہ کروایا، انہیں ہر چیز کے نام سکھلائے وغیرہ، انہی خصوصیات میں سے خصوصیت ان کا یہ لمبا قد ہے، اگر اس تناظر میں حدیث کو دیکھا جائے تو یہ اشکال دور ہو جاتا ہے۔

چوتھی بات:
جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق آسمانوں میں ہوئی اور انہیں جنت میں ٹھہرایا گیا، اور جنت کے بارے میں ہے کہ اس کی چوڑائی زمین وآسمان کے برابر ہے، ان تمام باتوں پر اگر غور کیا جائے تو سیدنا آدم علیہ السلام کے قد پر حیرانگی نہیں ہوتی کیونکہ انہیں اسی حساب سے بنایا گیا کہ وہ جنت میں رہیں گے، یہی وجہ ہے کہ حدیث کے مطابق جب جنتی جنت میں جائیں گے تو ان کا قد بھی آدم علیہ السلام جتنا ہوگا۔ (دیکھیں: صحیح بخاری: 3327 ، صحیح مسلم : 2834)

پانچویں بات:
قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کی عمر ساڑھے نو سو سال بتائی گئی ہے جو کہ بذاتِ خود ایک حیران کن بات ہے کہ کوئی انسان اتنی لمبی عمر تک کیسے جی سکتا ہے؟ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ پہلے کے لوگوں کی لمبی عمر کا ایک راز ان کی بڑی جسامت تھی تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ ہماری جیسی  جسامت رکھنے والا انسان اتنا لمبا عرصہ نہیں جیتا، اسی لئے اس امت کے قد چونکہ چھوٹے ہیں اسی لئے ان کی عمریں بھی کم ہیں جو کہ ایک حدیث کے مطابق 60 سے 70 سال ہے (دیکھیں، سنن ترمذی: 3550  سنن ابنِ ماجہ: 4236)، جس سے انسانوں کی عمر اور اس کے قد کے درمیان پائے جانے والے تعلق کا بخوبی اندازی لگایا جا سکتا ہے، بلکہ اگر جانوروں پر بھی غور کیا جائے تو عام طور پر بڑی جسامت والے جانوروں کی عمر چھوٹی جسامت والوں سے لمبی ہوتی ہے۔

چھٹی بات:
آج کی موجودہ سائنس ڈائناسور(Dinosaur) کے وجود کو تسلیم کرتی ہے جن میں سے بعض اقسام جیسے (Diplodocus) کی لمبائی 25 سے 27 میٹر بتائی جاتی ہے، جو کہ خوشکی پر چلنے والا سب سے بڑا جانور تصور ہوتا ہے، اسی طرح بلیو وہیل (Blue whale) جو کہ سمندر میں پایا جانے والا سب سے لمبا جانور ہے جن میں سے بعض کی لمبائی 33 میٹر تک بتائی جاتی ہے، جب اتنے بڑے جانوروں کا تصور ممکن ہے تو سیدنا آدم علیہ السلام کے ساٹھ ہاتھ قد، جو تقریباً 28 میٹر بنتا ہے، کا تصور کیوں کر غیر ممکن ہے!

ساتویں بات:
عام طور پر جس بنیاد پر اس حدیث کا انکار کیا جاتا ہے وہ یہ کہ اب تک انسانوں کے جتنے بھی ڈھانچے ملے یا دریافت ہوئے ہیں ان میں کسی کا قد اتنا لمبا نہیں مل سکا!

اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کا نہ ملنا اس کی غیر موجودگی کو ثابت نہیں کرتا بالخصوص جب سائنس خود اس بات کا اعتراف کر چکی ہو کہ اب تک جو انسانی ڈھانچے ملے ہیں وہ اتنے کافی نہیں کہ اس کی بنیاد پر کوئی ٹھوس سائنسی نظریہ قائم ہو سکے۔

دوسرا یہ کہ جو لوگ اس قسم کی دریافت کا کام کرتے ہیں وہ کوئی ایسے لوگ نہیں جن کی امانت ودیانت پر اندھا اعتماد کر لیا جائے بلکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ بہت سے ایسے حقائق جن سے دینِ اسلام کی حقانیت ثابت ہوتی ہو وہ منظرِ عام پر نہ لائے ہوں، لہٰذا اتنی کھوکھلی بنیادوں پر ایک صحیح حدیث کا انکار کرنا کوئی عقلمندی نہیں!

منگل 21 جمادی الاول 1445ﻫ 5-12-2023م
Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے