امام زہری نے بنو امیہ کی مدد سے احادیث گھڑیں!؟

وضاحت شبہ :
معترضین کا کہنا ہے کہ حدیث بنی امیہ کے دور کی پیداوار ہے۔ اس مقصد کے لیے معروف تابعى امام زہری نے بڑا کردار ادا کیا ، ابراہیم بن ولید اموی امام زہری کے پاس ایک صحیفہ لایا جس میں اپنی من پسند روایتیں لکھ لی تھیں اور زہری سے اس کی اجازت طلب کی۔ زہری نے بھی بلا کسی تردّد کے اس کی اجازت دے دی اور کہا : (مَنْ يَسْتَطِيْعُ أَنْ يُخْبِرَكَ بِهَا غَيْرِيْ؟) ترجمہ: (میرے علاوہ تمہیں یہ احادیث اور کون بیان کر سکتا ہے) پھر زہری کے واسطے سے احادیث بیان کی جانے لگیں۔ [السنة ومكانتها للسباعي: 192]
اسی طرح ایک موقع پر امام زہری نے خود اقرار کیا کہ: (أَكْرَهَنَا هَؤَلَاءِ الْأُمَرَاءُ عَلَى أَنْ نَكْتُبَ أَحَادِيْثَ).
ترجمہ: (ان امراء نے احادیث گھڑنے پر ہمیں مجبور کیا) یہودی مستشرق گولڈ زیہر نے اسى طرح ترجمہ کیا!۔
جوابِ شبہ

پہلی بات:
احادیث بنو امیہ کے دور سے پہلے بھی پڑھی پڑھائی ، سنی سنائی جاتی تھیں اور مسلمانوں میں عام تھیں اور تدوین کی بھی بات کی جائے تو صحیفہ ہمام بن منبہ اور دیگر صحابہ کے صحائف اس بات کی دلیل ہیں کہ صحابہ کے دور میں بھی احادیث کے مجموعے موجود تھے جن کی تفصیل جناب مصطفی اعظمی صاحب کی کتاب دراسات في الحديث النبوي [ص 84 – 325] میں دیکھی جاسکتی ہے اور اس تعلق سے ہماری ویب سائٹ پر مزید تفصیل موجود ہے:

دوسری بات:
امام زہری، جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید کردیے گئے تو اس کے بعد سے آپ کے تعلقات خلفاءِ بنو امیہ سے استوار ہوئے۔ آپ نے نیک سيرت  خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے دور میں ان کے حکم پر احادیث کی تدوین میں اہم کردار ادا کیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ امام زہری جنہوں نے لوگوں کو اسانید کی اہمیت کا سبق پڑھایا جس کی بنیاد پر صحیح اور من گھڑت روایت میں فرق کیا جاتا ہے، انہی پر احادیث گھڑنے کا الزام لگا دیا [تاريخ الإسلام للذهبي: 3/ 512]۔

تیسری بات:
کسی کا حکام یا خلفاء کے پاس آنا جانا اس کے احادیث گھڑنے کو ثابت نہیں کرتا۔ امام زہری پر اس قسم کے اعتراض پہلے بھی ہوئے جس کا جواب دیتے ہوئے امام ذہبی فرماتے ہیں:

(بعض بے وقعت لوگوں نے امام زہری سے احادیث لینے سے اس لیے گریز کیا کیونکہ وہ خلفاء کے پاس جایا کرتے تھے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا بھی ہے تب بھی وہ حجت اور معتبر  ہیں اور زہری جیسا اور کہاں ہے؟) [سير أعلام النبلاء: 5/ 339]

تاریخی طور پر بھی یہ ثابت ہے کہ وه خلفاء کے سامنے بھی حق بیان کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے بطورِ امتحان امام زہری سے قرآنِ مجید کی اس آیت کے بارے میں سوال کیا ﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [النور : 11] کہ اس سے کون مراد ہے؟ تو امام زہری نے کہا: عبد اللہ بن ابی۔ اس پر ہشام نے کہا: آپ نے جھوٹ بولا ہے۔ اس سے مراد علی بن ابی طالب ہیں۔ امام زہری نے غصے سے فرمایا: اگر آسمان سے آواز لگائی جائے کہ اللہ نے جھوٹ کو حلال کر دیا ہے تب بھی میں جھوٹ نہ بولوں۔ پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس سے مراد عبد اللہ بن ابی ہے [فتح الباري: 12/ 328]۔

چوتھی بات:
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ امام زہری نے کہا ہمیں ان امراء نے احادیث گھڑنے پر مجبور کردیا دراصل اس روایت میں معنوی تحریف سے کام لیا گیا ہے۔ اصل معاملہ یہ تھا کہ امام زہری احادیث کی کتابت کو مستحسن نہیں سمجھتے تھے مگر جب امام زہری کو عبدالملک بن مروان نے بلوایا تو انہوں نے انہیں احادیث لکھوائیں اور اس کے بعد لوگوں سے کہا کہ اب تمہیں بھی لکھنے کی اجازت ہے۔ یہ واقعہ متعدد کتابوں میں موجود ہے چنانچہ:

  • ابن سعد اور خطیب بغدادی نے ذکر کیا ہے کہ امام زہری فرماتے ہیں:

كُنَّا نَكْرَهُ كِتَابَ الْعِلْمِ حَتَّى أَكْرَهَنَا عَلَيْهِ هَؤُلاءِ الأُمَرَاءُ. فَرَأَيْنَا أَنْ لا نَمْنَعَهُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. [الطبقات الكبرى لابن سعد : 2/ 334 ، تقييد العلم للخطيب البغدادي : 107]

ہم (ابتداء میں) علم لکھنا پسند نہ کرتے تھے حتی کہ ان امراء نے ہمیں اس پر مجبور کیا۔ اب ہمارا خیال ہے کہ ہم اس سے کسی مسلمان کو نہ روکیں۔

  • امام ذہبی نے ذکر کیا ہے کہ جب امام زہری عبدالملک بن مروان کے پاس سے نکلے تو لوگوں سے کہنے لگے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّا كُنَّا قَدْ مَنَعنَاكُم شَيْئاً ‌قَدْ ‌بَذَلنَاهُ ‌لِهَؤُلَاءِ، فَتَعَالَوْا حَتَّى أُحَدِّثَكُم. [سير أعلام النبلاء : 5/ 334]

اے لوگوں! ہم نے تمہیں کتابت (حديث) سے روکا تھا اور وہ اب ان امراء کے لیے ہم نے (لکھنا) شروع کردی پس آجاؤ کہ میں تمہیں احادیث بیان کروں۔

ان الفاظ کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ احادیث گھڑے جانے کے دعوے میں کس قدر مبالغہ آرائی بلکہ تحریف سے کام لیا گیا ہے حالانکہ احادیث گھڑنے کا اس سے دُور دُور کا تعلق بھی نہیں ہے بلکہ بات تو صرف احاديث لكھنے کی کی جا رہی ہے ۔

پانچویں بات:
جہاں تک ابراہیم بن ولید اموی اور امام زہری کا قصہ ہے تو اس حوالے سے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ابراہیم بن ولید امام زہری کے شاگرد ہیں [تاريخ دمشق لابن عساكر : 7/ 247]۔ اصل قصہ یہ تھا کہ انہوں نے احادیث کا ایک مجموعہ امام زہری پر پیش کیا اور ان سے اجازت طلب کی کہ کیا یہ احادیث میں آپ سے روایت کر سکتا ہوں؟ اس پر امام زہری نے یہ کہہ کر اجازت دے دی کہ (مَنْ حَدَّثَكُمُوهُ غَيْرِي) میرے علاوہ ان احاديث كو تمہیں كس نے بیان کیا؟ [المعرفة والتاريخ للفسوي : 2/ 828]۔

یعنی امام زہری کو یہ یقین تھا کہ یہ احادیث انہی کی بیان کردہ ہیں اور یہ یقین کیوں نہ ہوتا وہی تو ہیں جن کے طریق سے سب سے زیادہ احادیث مروی ہیں بلکہ امام مسلم کے بیان کے مطابق نوّے (90) کے قریب احادیث ایسی ہیں جو امام زہری کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں [صحيح مسلم : 1647]۔ لہٰذا اس قصے میں ایسی کوئی بات نہیں جو قابلِ اعتراض ہو۔ ایک شاگرد کا استاد پر احادیث کو پیش کرنا اور اس سے روایت کی اجازت طلب کرنا محدثین کے ہاں ’’عرض المناولہ‘‘ کہلاتا ہے جو محدثین کے یہاں احادیث لینے اور روایت کرنے کا معروف اور معتبر طریقہ ہے [دیکھیں: مقدمة ابن الصلاح : 166]

چھٹی بات:
جب امام زہری بنو امیہ کے کہنے پر احادیث گھڑ رہے تھے تو امام زہری کے اساتذہ جن میں سعید بن مسیب بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے اس ’نالائق‘ شاگرد سے اظہارِ لاتعلقی کیوں نہ کیا؟ یا یہ کہا جائے کہ وہ سب بھی اس سازش میں ملوث تھے!

اگر یہ بھی تسلیم کرلیں تو جب بنو عباس کا دور آیا تو اس دور کے علماء جن میں امام احمد بن حنبل، امام بخاری وغیرہ شامل ہیں انہوں نے بھی امام زہری پر اس قسم کا کوئی الزام نہیں لگایا حالانکہ اس وقت تو بنو امیہ کا خوف بھی نہ تھا بلکہ بنو عباس کی بنو امیہ کے لیے عداوت واضح بات ہے! اس کے برعکس وہ اپنی کتابوں میں امام زہری کی روایات کو جگہ دیتے رہے! یہ تمام باتیں اس الزام کے بے بنیاد ہونے کے لیے کافی ہیں۔

آخرى بات:
یہاں تعجب اس بات پر بھی ہے کہ پہلے کہتے ہیں حدیثیں ڈھائی سو سال بعد لکھی گئی ہیں اس لیے معتبر نہیں ہیں، جب ڈھائی سو سال سے پہلے لکھنے کا ثبوت پیش کیا جائے تو کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں گھڑنا ہے!

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے