کم سنی میں نبی کریم ﷺ كا سینہ چاک کیا جانا اور شیطان کا ایمان لانا

وضاحتِ شبہ : 
حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ کم سنی میں نبی کریم ﷺ کا شقِ صدر (سینہ چاک) کیا گیا اور یہ بھی بیان ہوا ہے کے شیطان بھی آپ ﷺ پر ایمان لے آیا   (دیکھئے : صحیح مسلم : 162 ، 2814 )
یہ دونوں باتیں خلافِ عقل معلوم ہوتی ہیں كيونكہ انسانی طبیعت میں سینے کا یوں چاک کیا جانا ممکن نہیں اس لیے یہ واقعہ خیالی اور غیر معقول ہے۔ 
جوابِ شبہ

 

پہلی بات:
حدیث میں مذكور شیطان سے مراد ابلیس نہیں بلکہ ہر انسان کے ساتھ موجود قرین ہے جو انسان کو برائی کی طرف مائل کرتا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ موجود قرین آپ ﷺ کے تابع تها  اور آپ ﷺ کو برائی کی طرف مائل نہیں کرتا تها۔ (دیکھئے : صحیح مسلم : 2814)

دوسرى بات:
یہ جان لینا چاہیے کہ انبیاء کے معصوم (گناہوں سے پاک) ہونے کا یہ مفہوم نہیں کہ ان سے ان کا اختیار و حریت چھین لی گئی ہو۔ بلکہ انبیاء سے اجتہادی طور پر ایسے معاملات رونما ہوئے جن پر قرآنِ کریم میں تنبیہ موجود ہے جیسا کہ سیدنا آدم کے بارے میں ہے:

فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۭ اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ (سورة البقرۃ : 37)

ترجمہ: اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی جس کو اس کے رب نے قبول کرلیا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

سیدنا سلیمان کے بارے میں مذکور ہے:

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمٰنَ وَاَلْقَيْنَا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ  – قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ (سورة ص : 34،35)

ترجمہ: اور بیشک ہم نے سلیمان کو آزمایا کہ ہم نے اس کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے اللہ کی طرف توجہ کی۔ اور یوں دعا کی کہ ’’ اے میرے رب ! میری مغفرت کر دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد کسی کے شایانِ شان نہ ہو بیشک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔ 

سیدنا ابراہیم کے بارے میں یہ دعا موجود ہے:

رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ (سورة ابراہیم : 41)

ترجمہ: اے اللہ! حساب کتاب کے دن مجھے اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو بخش دینا۔

ان دلائل سے معلوم ہوا سیدنا آدم ، سیدنا سلیمان ، سیدنا ابراہیم علیهم السلام نے اپنے رب سے مغفرت  مانگی۔ انبیاء کا مغفرت مانگنا واضح کر دیتا ہے کہ انبیاء سے بھی اجتہادی طور پر ایسے معاملات صادر ہو سکتے ہیں جو قابلِ تنبیہ ہوں یا جن كے حوالے سے انبیاء نے مغفرت طلب کرنا مناسب جانا۔

تيسرى بات:
یہ واقعہ خلافِ عقل نہیں جيسا كہ اس دور میں ڈاکٹروں کا باريک سے باريک آپریشن کرنا ، جدید آلات کے ذریعے انسانی جسم کی اندرونی بیماریوں کا علاج اور آپریشن۔ چنانچہ دل ہو یا دماغ  دورِ حاضر میں ڈاکٹر اس کا آپریشن کرے تو ہماری عقل تسلیم کر لیتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس دور میں دل کی پیوند کاری (Heart Transplant) کا عمل ممکن ہے جس ميں ایک زندہ یا مردہ شخص کا دل دوسرے شخص كے سینے میں داخل کر دیا جاتا ہے یا مصنوعی دل لگایا جاتا ہے ۔ اس قسم کے ميڈيكل سائنس سے متعلقہ امور كے ثابت ہوتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے حوالےسے شقِ صدر کا واقعہ تسلیم کرنا ہمارے لیے اور زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔

چوتھی بات:
یہاں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف یوں کروایا ہے:

فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ (البروج : 16)

ترجمہ: (وہ اللہ) جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعت کے تذکرے بھی کثرت سے موجود ہیں اور یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ، قوت کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔ لہذا اس واقعے کا انکار در اصل اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور قوت کا انکار ہے۔

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے