کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا اور عرفِ عام

وضاحت شبہ:
حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے تو ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے ہاتھ نہ پونچھے۔ [صحيح البخاري : 5456 ، صحيح مسلم :2031]
مذکورہ حدیث عرفِ عام اور جدید دور  کے تقاضوں کے خلاف ہے ، ساتھ ساتھ یہ عمل جراثیم کی منتقلی کا سبب بھی ہے۔
جوابِ شبہ


پہلی بات:
مذکورہ حدیث ایک سے زائد صحابہ نے روایت کی ہے جن میں جناب عبد اللہ بن عباس ، جناب جابر بن عبداللہ ، جناب انس بن مالک اور جناب کعب بن مالک رضی اللہ عنہم شامل ہیں، بعض نے نبیﷺ کا قول اور بعض نے نبیﷺ کا عمل ذکر کیا ہے اس طرح یہ قولی حدیث بھی ہے اور فعلی حدیث بھی،حدیث کی قبولیت کی تمام شرائط اس میں موجود ہیں، الغرض یہ سنت نبیﷺ سے بلا شک وشبہ ثابت ہے۔

دوسری بات:
لوگوں کا عرف اور مزاج ایسی چیز ہے جو کبھی ایک حالت پر ثابت نہیں رہتی بلکہ جگہ اور زمانے کے حساب سے اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، جبکہ ہمارا  ایمان ہے کہ دینِ اسلام قیامت تک آنے والی انسانیت کےلئے ضابطۂ حیات اور قانونِ زندگی ہے، جس کا معنیٰ یہ ہے کہ اسلام ہر زمانے میں قابلِ عمل رہا ہے اور رہے گا۔ جب دینِ اسلام نے پچھلی شریعتوں کو منسوخ کردیا حالانکہ وہ شریعتیں بھی اللہ کی طرف سے آئی تھیں تو کیسے ممکن ہے کہ اس کا کوئی حکم یا تعلیم محض عرفِ عام یا عوامی مزاج کی وجہ سے تبدیل یا منسوخ ہو جائے!

تیسری بات:
انسان کے کھانا کھانے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ وہ اکیلا کسی برتن میں کھائے، دوسری یہ کہ ایک برتن میں ایک سے زیادہ لوگ کھائیں؛ پہلی صورت میں انگلی چاٹنے میں کوئی ناپسندیدگی یا کراہت کا سوال نہیں، البتہ دوسری صورت میں سنت طریقہ یہ ہے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد انگلی چاٹے کیونکہ دورانِ کھانا چاٹنے سے اس کی انگلی پر جو لعاب دہن لگا ہوگا وہ دوبارہ کھانے میں جائے گا جس سے ساتھ کھانے والے کراہت محسوس کریں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر سنت پر درست طریقہ سے عمل کیا جائے تو کوئی کراہت والی بات نہیں ۔

چوتھی بات:
اس حدیث میں در اصل جس کام سے منع کیا گیا ہے وہ یہ کہ اگر انگلی پر کھانا لگا ہوا ہے تو اپنے ہاتھ کو کپڑے وغیرہ سے نہ پونچھے کیونکہ اس میں کھانے کا ضیاع اوررزق کی ناقدری ہے، بلکہ خود حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ انسان نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے[صحيح مسلم :2031]، ممکن ہے جو حصہ انگلی پر لگا رہ گیا ہو اسی میں برکت ہو۔ اس طرح یہ حدیث بہت سی خوبیوں اور اچھی تعلیمات کا مجموعہ ہے:

  • رزق کی قدر کرنا اسے ضائع نہ کرنا۔
  • کھانے کی برکتوں کو سمیٹنا اور اس کے کسی حصہ کو شیطان کےلئے نہ چھوڑنا۔
  • صفائی ستھرائی کا خیال کرنا کیونکہ اگر اسی حالت میں ہاتھ پونچھ لیا جائے تو و ہ کپڑا گندا ہو جائے گا۔
  • عاجزی اور انکساری اپنانا کیونکہ انگلی نہ چاٹنا یا برتن صاف نہ کرنا نہ صرف رزق کی ناقدری ہے بلکہ تکبر کی نشانی بھی ہے۔

پانچویں بات:
جہاں تک انگلیاں چٹانے کی بات ہے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جن کے ساتھ دلی تعلق اور  بے تکلفی ہواور وہ اسے ناپسند نہ کرتے ہوں ، جیسے بیوی،لونڈی اور اولاد وغیرہ، بلکہ یہ عمل ان سے محبت کا اظہار ہے جیسا کہ نبیﷺ سے ایک حدیث میں ثابت ہے آپﷺ جب سیدہ عائشہ کی ساتھ کھانا کھاتے تو وہیں سے گوشت توڑتے جہاں سے سیدہ عائشہ توڑتیں، اسی طرح وہیں سے پانی پیتے جہاں سے سیدہ عائشہ پیتیں [صحيح مسلم : 300]

چھٹی بات:
انگلیاں چاٹنے میں ایسی کونسی قباحت ہے جو قابلِ اعتراض ہو، کیونکہ جو کھانا کھایا ہے اسی کا کچھ حصہ انگلی پر لگا ہے، جب وہ کھانا گندا نہیں تھا تو اس کو چاٹنا کیوں کر گندگی ہوا؟

ساتویں بات:
بعض سائنسی تحقیقات سے ثابت ہے کہ انسان کے لعاب دہن میں کچھ ایسے عناصر ہوتے ہیں جو کھانے کی چکناہٹ کو ختم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں، اس طرح کھانے کے بعد انگلی چاٹنے سے ہاتھ کی چکناہٹ بھی ختم ہوتی ہے اور اگر صابن وغیرہ میسر نہ ہو تو صرف پانی سے دھونا یا کپڑے سے پوچھنا کافی ہوتا ہے۔

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے