كيا واقعہ معراجِ رسول ﷺ درست ہے؟


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/thehadith/public_html/wp-content/themes/tessera/includes/bs4breadcrumb.php on line 100

كيا واقعہ معراجِ رسول ﷺ درست ہے؟

وضاحتِ شبہ:
بعض لوگ واقعہ معراج نبوى ﷺ کے عقل کے خلاف ہونے کی وجہ سے انکار کرتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ یا یہ معراج خواب میں ہوا تھا جیساکہ قرآن کریم میں ہے:
وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ( الاسراء:60 )
ترجمہ: اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش۔ یا یہ فلسفیانہ افکار کی ایک قسم ہے جیسے وحدۃ الوجود وغيره، اس قسم کی باتوں سے واقعہ معراج کے نبوى معجزه کا انکار كيا جاتا ہے۔
جوابِ شبہ

پہلی بات:
 نبی کریم ﷺ كا معجزہ معراج ایک حیرت انگیز معجزہ ہے، لیکن ہر متحیر کردینے والی شے یا عجیب چیز کا انکار کردينا بھی انصاف کے خلاف ہے، یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ہر حیرت انگیز چیز خیالی اور غیر حقیقی نہیں ہوتی۔ بھلا کیسے یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ کوئی شے اگر کسی کے علم سے باہر ہو اور وہ اس کا ادراک نہ رکھے تو اس کی حقیقت کا ہی انکار کردے، اس رویے کو تو معاصر سائنس بھی تسلیم نہیں کرتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص اس بنیاد پر انکار کرے کہ آسمانوں کا سفر اس لیے ناممکن ہے کہ دنیا کے گرد ہوا کی تہہ تقریباً تین سو کلو میٹر تک محدود ہے ، لہذا جو کوئی اس سے تجاوز کرتا ہے وہ زندگی کے لیے ضروری ہوا کی کمی کی وجہ سے یقینی موت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس بنیاد پر معراج کا انکار کردیا جائے تو اسے یہی کہا جائے گا کہ یہ آپ کے علم کی کمی ہے کیونکہ اس دور میں سائنس کی ایجادات جیسا کہ جیٹ، طیارے وغیرہ جس بلندی پر اڑان بھرتے ہیں، وہ اس قسم کے اعتراضات کی واقعاتی طور پر حیثیت کو واضح کردیتے ہیں۔

مزید یہ کہ خلائی سفر کرنے والے سائنسدان اور خلائی تحقیق پر کام کرنے والے خلائی ادارے ناسا وغیرہ ان سب کا وجود، کارنامے اور خلائی لوگوں، سیاروں اور زمین، چاند، سورج اور دیگر سیاروں سے متعلق ان کی تحقیقات کا منظر عام پر جو کچھ عرصہ پہلے ایسا خیال تھا کہ جسے ذکر کیاجائے کوئی تسلیم نہ کرے اور سب عقلی طور پر اسے ناممکن سمجھیں مگر آج سب کی عقلیں اس بات کو تسلیم کرچکی ہیں تو پھر معراج جس میں اللہ رب العالمین کی قدرت و طاقت کا بیان ہے اسے محض اسی وجہ سے قابل تشکیک کیونکر سمجھا جائے؟۔

دوسری بات:
نبی کریم ﷺ اپنی قوم سے اس متعلق ہونے والی گفتگو میں مسجد اقصی کے قریبی احوال بتلانا اس واقعے کو ثابت بھی کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ یہ واقعہ حالت بیداری میں جسم وروح کے ساتھ ہوا ہے۔ واقعہ معراج قرآن کریم میں جس اسلوب کے ساتھ بیان ہوا ہے یہ اسلوب خواب کے بارے میں استعمال نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ    (الاسراء:01)

ترجمہ:  پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ ہر بات سننے والی، ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے۔

اس آیت کریمہ ’’ سُبْحٰنَ ‘‘ کے الفاظ پر پھر ’’ اَسْرٰى‘‘ کے الفاظ پر غور کیا جائے یہ انداز خواب کے بارے میں نہیں ہوسکتا۔

قرآن کریم میں ایک اور مقام پر واقعہ معراج کا تذکرہ ہوا ہے، اسے ملاحظہ فرمائیں۔

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ (5) ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ (6) وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ (7) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ (8) فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ (9) فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ (10) مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ (11) أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ (12) وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ (13) عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ (14) عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ (15) إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ (16) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ (17) لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ    (النجم:5-17)

ترجمہ: انہیں ایک ایسے مضبوط طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے۔ جو بڑی طاقت والا ہے، سو وہ بلند ہوا۔ جبکہ وہ بلند افق پر تھا۔ پھر وہ نزدیک ہوا، پس اتر آیا۔ یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر آگیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک ۔ پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔ پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔ کیا پھر بھی تم ان سے اس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہو جسے وہ دیکھتے ہیں؟ اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔ اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہی ہے۔ اسی کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنت ہے۔ جب اس بیری کو ڈھانپ رہا تھا جو ڈھانپ رہا تھا۔ (پیغمبر ﷺ کی) نگاہ نہ ادھر ادھر ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔ بلاشبہ یقینا اس(پیغمبر ﷺ) نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔

قارئین اس اسلوب کو بھی سامنے رکھیں اور غور کریں کیا یہ اسلوب کسی خواب کے بارے میں ہوسکتا ہے؟!۔

مزید یہ کہ سورۃ الاسراء کی جس آیت میں لفظ الرؤیا کے الفاظ سے خواب کا استدلال کیا گیا یہ صحیح نہیں۔

مزید یہ کہ سورۃ الاسراء کی جس آیت میں لفظ الرؤیا کے الفاظ سے خواب کا استدلال کیا گیا یہ صحیح نہیں، کیونکہ ذکر کردہ دیگر قرآنی آیات کے اسلوب سے یہی واضح ہوتا ہے کہ یہ حالت بیداری کا واقعہ ہے، لہذا اس آیت میں بھی الرؤیا کا مفہوم رؤیۃ المنام (خواب) نہیں بلکہ رؤیۃ العین (یعنی آنکھ سے دیکھنا ہے) جیساکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی وضاحت بھی فرمادی ہے۔  ديكھیں: صحيح بخارى 2888، كتاب التوحيد لابن خزيمہ (ص 226) وشرح مسلم للنووى (3 / 9)۔

تيسرى بات:
اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى  ( النجم:17 )

ترجمہ: نہ نظر بہکی اور نہ ہی حد سے متجاوز ہوئی۔

اس آیت میں قوت بصارت کا ذکر ہے، اور یہ جسم کا خاصہ ہے روح کا نہیں ہے۔

 اسی طرح آپ ﷺ کا براق پر سوار ہونا بھی جسم کیساتھ معراج ہونے کی دلیل ہے؛ کیونکہ براق سفید رنگ کا چمک دار جانور ہے، اور سواری کی ضرورت جسم کو ہوتی ہے روح کو ادھر ادھر جانے کے لئے سواری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ديكھیں: صحيح بخارى 3207، 3887، تفسير ابن كثير (8/432)۔

چوتھی بات:
امام طحاوی رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب: "عقیدہ طحاویہ” میں کہتے ہیں: "معراج حق اور ثابت ہے، آپ ﷺ کو بیداری کی حالت میں بہ نفس نفیس آسمانوں کی طرف لے جایا گیا، پھر جتنا اللہ تعالی نے چاہا اتنا مزید آگے بھی گئے، اللہ تعالی نے آپ کی تکریم فرمائی اور آپ کی طرف جو چاہا وحی فرمایا، جو کچھ آپ نے دیکھا اسے دل نے نہیں جھٹلایا، اللہ تعالی آپ پر دنیا اور آخرت میں رحمتیں نازل فرمائے”۔

عقیدہ طحاویہ کے شارح لکھتے ہیں کہ: نبی ﷺ کو اسرا و معراج جسد اطہر سمیت ہوا ہے اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا    ( الاسراء:01 )

ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام  سے لے کر مسجد اقصی تک سیر کرائی۔

یہ آیت اس کی دلیل یوں بنتی ہے کہ "عبد” اس وقت بندے پر بولا جاتا ہے جب جسم اور روح کا مجموعہ ہو، جیسے کہ انسان اسی وقت بولا جاتا ہے جب جسد اور روح دونوں کا مجموعہ ہو، لہذا جب بھی عبد اور انسان کا لفظ مطلق بولا جائے تو یہی اس کا معنی اور یہی بات درست بھی ہے، اس لیے آیت کے مطابق اسرا اور معراج جسم و روح دونوں کو کروایا گیا۔

نیز یہ بات عقلی طور پر بھی ناممکن نہیں ہے، چنانچہ اگر کسی بشر کے آسمان پر جانے کو محال سمجھا جائے تو فرشتوں کے زمین پر آنے کو بھی محال سمجھا جائے گا، اور یہ بات نبوت کے انکار تک پہنچا سکتی ہے جو کہ صریح کفر ہے”۔ شرح الطحاويہ: (1/245)

پانچویں بات:
معراج کو فلسفیانہ نظریات کے مشابہ قرار دینا صحیح نہیں، اس لیے کہ یہ نظریات بذات خود غير معتبر ہیں، ان افکار اور معراج میں بڑا واضح فرق موجود ہے۔

چھٹی بات:

سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا   ( الاسراء:1 )

ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام  سے لے کر مسجد اقصی تک سیر کرائی۔

اس آیت مبارکہ میں " سُبْحَانَ الَّذِي ” کہہ کر اللہ تعالی کی تسبیح بیان کی گئی ہے، اور تسبیح اسی وقت بیان کی جاتی ہے جب کوئی عظیم ترین معاملہ در پیش ہو، چنانچہ اگر معراج خواب میں ہی ہوا تھا تو ایسا عظیم معاملہ ہے ہی نہیں کہ جس پر تسبیح بیان کیا جائے۔

اسی طرح قریش کو بھی نبی ﷺ کی تکذیب کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ایسے ہی مسلمان ہو جانے والے کمزور دل لوگ بھی آپ کی اس بات پر مرتد نہ ہوتے!۔ پس ذرا غور فرمائیں!۔

ساتويں بات:
اسرا ومعراج کے بارے میں کچھ کا کہنا ہے کہ: آپ ﷺ کی روح کو  آسمان پر لے جایا گیا تھا، آپ کا جسم اطہر نہیں لے جایا گیا، یہ بات ابن اسحاق نے عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی بات نقل کی گئی ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کے یہاں عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما نے یہ نہیں کہا کہ آپ ﷺ کو خواب میں سیر کروائی گئی، بلکہ ان کا یہ کہنا ہے کہ آپ ﷺ کی روح کو سیر کروائی گئی تھی لیکن آپ کا جسم ساتھ نہیں تھا۔

دونوں تعبیروں  میں فرق ہے:

  • آپ ﷺ کو خواب میں سیر کروائی گئی۔
  • آپ ﷺ کی صرف روح کو سیر کروائی گئی جسم ساتھ نہیں تھا۔

دونوں میں فرق یہ ہے کہ: خواب میں سونے والے کو جو کچھ نظر آتا ہے وہ پہلے سے ذہن میں موجود چیزوں کا تصور اور تخیل محسوس شکل میں دیکھتا ہے، چنانچہ خواب دیکھنے والے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے آسمان کی طرف لے جایا گیا، اور پھر مکہ واپس آگیا، لیکن اس کی روح نہ تو آسمان پر گئی ہوتی ہے اور نہ ہی واپس آتی ہے، یہ محض خوابوں کا فرشتہ سوئے ہوئے شخص کے ذہن میں تصورات پیدا کرتا ہے۔

لہذا معاویہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا كا یہ مقصد ہر گز نہیں تھا کہ آپ ﷺکو خواب میں معراج کروایا گیا، بلکہ آپ دونوں کا مقصد یہ تھا کہ آپ ﷺکی روح مبارک کو سیر کروائی گئی، چنانچہ روح جسم سے نکل کر سیر کے بعد واپس آگئی۔

آپ دونوں کے مطابق یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت میں شمار ہوتا ہے، کسی اور میں ایسا ممکن نہیں ہے،کیونکہ کسی اور کی روح آسمانوں کی طرف مکمل طور پر اسی وقت جائے گی جب انسان مر جائے۔

پیر 13 محرم 1445هـ 31-7-2023م
Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے