مسلمانوں كو تو صرف (سنت ابراہیمى) كی اتباع كا حكم ديا گيا ہے۔

مسلمانوں كو  تو صرف (سنت ابراہیمى) كی اتباع كا حكم ديا گيا ہے۔

شبہ کی وضاحت:
 سنت، دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی ﷺ نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ دین کی حیثیت سے جاری فرمایاقرآن ميں آپ کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اللہ تعالى فرماتا ہے: (ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ).   (سورة النحل:123).
ترجمہ: پھر ہم نے آپ كى طرف وحی کی کہ ابراہیم عليہ السلام کی ملت کی پیروی کریں ، جو ایک اللہ کی طرف ہوجانے والے تھے اور مشرکوں ميں سے نہ تھے ۔ اور يہ سنت ابراہیمى صرف چھبیس سنتیں ہيں!
جواب شبہ

 

اللہ تعالى نے فرمايا:  

(ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ)  (سورة النحل:123)

ترجمه: پھر ہم نے آپ كى طرف وحی کی کہ ابراہیم عليہ السلام کی ملت کی پیروی کریں ، جو ایک اللہ کی طرف ہوجانے والے تھے اور مشرکوں ميں سے نہ تھے۔

جہاں تک قرآن کی اس آیت سے استدلال کا تعلق ہے تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ لفظ سنت کا اطلاق دين كى جزئیات پر بھی ہوتا ہے مگر لفظ ملت کا اطلاق جزئیات پر نہیں ہوتا جیسے کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنا  سنت ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ملت ہے! تو ثابت ہوا كہ آيت ميں ملت سے مراد سنت نهيں بلكہ ملت ابراہيم سے مراد حضرت ابراہيم عليہ السلام كے دين كى وہ مجموعى  ہيئت (كيفيت) ہے جو كہ دين اسلام كى بنيادى تعليمات ہیں خصوصاً ہر قسم كے شرك سے اجتناب اور مشركوں سے بيزارى  اور الله تعالى كى  اطاعت و فرماں بردارى وغيره جوكہ امام الحنفاء،ابو الانبیاء، خلیل الرحمان عليہ السلام كى نماياں خصوصيات تھیں ۔

پہلی بات:
سب سے پہلے سنت کی وه تعریف جو شبہ ميں کی گئی ہے وہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اجماع امت سے ثابت کی جائے۔

دوسری بات:
اصطلاح کسی فرد واحد کی نہیں ہوتی بلکہ ایک جماعت کی ہوتی ہے فرد واحد کو شاذ کا نام تو دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصطلاح کو حرف اخير  نہیں مانا جاسکتا، مثال کے طور پر اگر کوئی کہے کہ کتاب اللہ جس سے مراد قرآن مجید ہے اس سے میری مراد کتاب مقدس ہے تو کیا اس كى  یہ اصطلاح قبول ہو گى؟!  اسی طرح سنت کا نام جب ہم لیتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں نبى اكرم ﷺکا تصور ہى آتا ہے نہ كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا

تیسری بات:
علمی دیانت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ سنت كى  مذکورہ تعریف کے لئے لفظ "سنت” نہ استعمال کیا جائے بلکہ کہ اسے "سنت ابراہیمی” کہا جائے کیونکہ سنت تو وہی ہے!

چوتھی بات:
سنت كى مذکورہ تعریف کی رو سے جو چھبیس سنتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ذکر کی گئی ہیں ان کو اجماع صحابہ اور تواتر عملی سے ثابت کریں کیونکہ مذکورہ دعویداروں کے یہاں سنت خبر يا حديث سے ثابت نہیں ہوتی۔

پانچویں بات:
جن سنتوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کہا گیا ہے ان سنتوں کی نسبت حضرت آدم علیہ السلام کی طرف کی جانی تھى کیونکہ نکاح وطلاق، نماز ،زکوٰۃ، روزہ، حج ،حیض ونفاس میں شوہر اور بيوى کے تعلق سے اجتناب كى نسبت حضرت ابراہیم كى طرف كر كے ان سے پہلے والے انبياء پر زد پڑتی ہے كيونكہ اس كا یہ مطلب نکلتا ہے کہ معاذاللہ حضرت ابراہیم سے پہلے شوہر وبيوى کے تعلقات کے لیے نکاح وطلاق کا کوئی تصور نہ تھا!۔

چھٹی بات:
صحابہ رضوان الله عليهم اجمعين كا حديث كا  اہتمام اس بات كا عملى مظہر تھا كہ وه اسے دين كا لازمى جز سمجھتے تھے، اور اس كے بغير دين كا تصور ہی نامكمل رہتا ہے، اس مظہر كى بيسيوں حقيقى مثاليں ان كى زندگیوں سے پیش كى جاسكتى ہیں.

ساتویں بات:
مسلمہ اصطلاحات ميں تبديلى درحقيقت ان كا انكار ہے۔

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے