نماز میں امام سے سبقت لے جانے پر سر گدھے کے سر میں بدل جانے کی وعید!

وضاحتِ شبہ: حدیث میں آتا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رحمتِ دو عالم ﷺ کا ارشاد بیان کیا کہ ”امام سے پہلے سجدہ سے جو کوئی سر اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بلا شک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح کر دے گا‘‘۔ (صحیح بخاری : 691، صحیح مسلم : 427)
کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ کسی انسان کا سر گدھے کے سر میں بدل جائے! یہ بات عقل کے مطابق معلوم نہیں ہوتی۔
جوابِ شبہ:

پہلی بات: یہ حدیث صحت کے اعتبار سے سب سے اعلی درجے پر ہے کیونکہ مذکورہ روایت حدیث کی صحیح ترین کتابوں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے جو کہ کتاب اللہ کے بعد صحیح اور معتبر ترین كتابيں ہیں اور اس بات پر تمام امت متفق ہے جیسا کہ سابقہ شبہ (صحيحين كی احاديث كی صحت كے تعلق سے اجماع امت ميں تشكيك ) میں ثابت کیا جا چکا ہے تو اس طرح حدیث پر شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور حدیث ثابت ہو جانے کے بعد اس پر ایمان لانا اور سرِ خم تسلیم کرنا لازم ہے۔

دوسری بات: اس حدیث میں ایسی کیا بات ہے جو عقل سے ماورا ہو! حالانکہ قران کریم میں اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل کی ایک قوم کی شکلوں کے مسخ ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :

مَن لَّعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ۚ أُولَٰئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ (المائدۃ : 60)

وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر غصے ہوا اور جن میں سے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں زیادہ برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

تو کیا یہ یا اس طرح کی دیگر آیات بھی عقل سے ماورا تصور ہوں گی!۔

تیسری بات: یہ شبہ حقيقت میں کس بات پر ہے؟ کیا اللہ کی قدرت پر شک کیا جا رہا ہے؟ وہ ذات جو عدم سے وجود عطا کر سکتی ہے کیا وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتی کہ خلقت میں تبدیلی واقع کر دے۔ جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ (الواقعة : 61)

اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بے خبر ہو۔

یعنی الله تعالى اس بات پر قادر ہے کہ تمہاری صورتیں مسخ کر کے تمہیں بندر اور خنزیر بنا دے اور تمہاری جگہ تمہاری شکل و صورت کی کوئی اور مخلوق پیدا کردے۔

چوتھی بات: یہ بات عقلاً بھی تصور كرنا کون سا مشکل ہے خاص طور پر انکے لیے جو ڈاروین کے نظریہِ ارتقاء کو تسلیم کرتے ہیں جس کا لُبِّ لُباب یہ ہے کہ انسانی وجود کا آغاز بندر کی شکل میں ہوا۔ تو جب بندر کا انسان میں تبدیل ہو جانا تصور کیا جا سکتا ہے تو اسی انسان کی خلقت میں کسی جزوی تبدیلی کے تصور میں کیا مشکل ہے؟۔

پانچویں بات: حدیث میں دورانِ نماز امام سے سبقت لے جانے پر سر گدھے کے سر میں بدل جانے کا ذکر ایک سخت وعید ہے جو کہ مذکورہ کام کی حرمت اور قباحت پر دلالت کرتی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہم اسکا وقوع پذیر ہونا تلاش کریں بلکہ اس پر ایمان رکھنا اور جس عمل کے بارے میں یہ وعید وارد ہوئی ہے اس سے باز رہنا ضروری ہے ۔

آخرى بات: حديث كا مقصد بيان كرتے ہوے امام قاضى عياض فرماتے ہیں كہ اس حديث میں اللہ تعالیٰ کى طرف سے ایک تنبیہ ہے کہ نماز میں ايسا كرنے والے كى صورت کو گدھے کی شکل میں بدل دے جو کہ انتہائی برى صورت  ہے۔ در حقيقت گدھے كو جہالت اور سستی کی مثال كے طور پر ذكر كيا جاتا ہے۔ تو جب اس بندے نے نماز کے قاعدے كى مخالفت كى اور امام سے سبقت لے جانے كى كوشش كى جبكہ اس سے كوئى فائده حاصل نہیں ہوتا تو ايسا شخص جہالت كى انتہا میں گدھے کی طرح ہے چنانچہ جب باطن ميں اس جيسا بن گيا تو عين ممكن ہے كہ ظاہر ميں بھی ايسا بن جائے. إكمال المعلم (2/341)

 
Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے