اونٹنی کے دودھ کے ساتھ پیشاب ملا کر پینا

وضاحتِ شبہ:
حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کو بيمارى سے شفايابى كے ليے اونٹنی کا پیشاب پینے کو کہا جبکہ پیشاب ناپاک اور نقصان ده چیز ہے۔ ایسی چیز کے بارے میں نبی کریم ﷺ پینے كا حکم نہیں دے سکتے۔ (صحیح بخاری : 233 ، 1501 ، 4192 ، 6805)
جوابِ شبہ

 

اس نوعیت کا واقعہ حضورِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی میں صرف ایک بار پیش آیا تھا اس کے بعد صحابہ کرام کے زمانے میں بھی کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کو دیکھتے ہوئے اس واقعہ کے متعلق علماء نے متعدد جوابات ديے ہیں جو پیشِ خدمت ہیں:

پہلى بات:
 اونٹ کا پیشاب پاک ہے یا ناپاک؟ يعنى اگر كپڑے وغيره كو لگ جائے تو كيا اسے دھوئے بغير اس ميں نماز پڑھ سكتے ہيں؟ درست بات یہ ہے كہ وه  ناپاک نہیں البتہ صفائى كى غرض سے اسے ضرور دھويا جاتا ہے ۔ (صحیح مسلم : 360) یہی وجہ ہے کہ زیرِ بحث قصہ بیان کرنے کے بعد امام ابنِ القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

 وفي القصة دليل على التداوي والتطبب، وعلى طهارة بول مأكول اللحم، فإن التداوي بالمحرمات غير جائز، ولم يؤمروا مع قرب عهدهم بالإسلام بغسل أفواههم، وما أصابته ثيابهم من أبوالها للصلاة ( زاد المعاد من هدي خير العباد، 4/46)

ترجمہ: اس قصے میں علاج اور مَاکُولُ اللَّحم جانور (جن كا گوشت کھانا حلال ہے) کے پیشاب کے پاک ہونے کی دلیل موجود ہے۔ حرام چیزوں کے ذریعے علاج جائز نہیں اور نئے نئے اسلام میں داخل ہونے کے باوجود انہیں کلی کرنے یا اونٹوں کا پیشاب لگنے کی وجہ سے کپڑے دھونے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ 

دوسرى بات :
پیشاب کے استعمال كو نبی کریم ﷺ نے نہ ہی لازم قرار دیا اور نہ ہی اس کا حکم مستحب عمل کا ہے بلکہ اس کا تعلق علاج سے ہے چنانچہ صرف بطورِ علاج ہی اس کا استعمال جائز ہے۔

تيسرى بات:
 عقل یا سائنس کو معیار سمجھنے والوں کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اطباء اور سائنس اس کے فوائد کو تسلیم کرتے ہیں۔ مثلاً: عرب میں حضض نامی دواء جو متعدد بیماریوں میں کار آمد تھی اسى سے بنائی جاتی تھی۔ مشہور طبيب ابنِ سینا دیہاتی اونٹ کے پیشاب کو علاج کے لیے بڑا مفید قرار دیتے تھے۔ متعدد بیماریوں کے علاج میں یہ مفید ہے جيسے جلد کی مختلف بیماریاں جیسے داد، ٹینیا کورپورس، اور پھوڑے۔ اسى طرح جسم پر زخم اور خشک اور گیلے السر کے علاج میں موثر ہے، بالوں کو چمکدار اور گھنے بنانے اور خشکی سے بچاؤ میں بھی مفید ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے انسائیکلوپیڈیا: (موسوعة محاسن الاسلام و رد شبهات اللئام : 7/154).

"جرنل آف کینسر سائنس اینڈ تھیراپی” کے مطابق اونٹ کے پیشاب میں کینسر مخالف خصوصیات ہیں اور اسے کینسر کے علاج میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ (OMICS انٹرنیشنل).

چوتھی بات :
حدیث میں اونٹ کے پیشاب کا استعمال محض ایک دوا کے طور پر ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ تو جس کی طبیعت مائل نہ ہو وہ اسے استعمال نہ كرے اور جو حضرات اس سے علاج كرتے ہیں وه كہتے ہیں كہ اس كى تھوڑی سى مقدار علاج كے ليے استعمال ہوتى ہے صرف ايک چمچ كى مقدار اونٹنى كے دودھ سے بھرے گلاس ميں ڈالى جاتى ہے.
آجکل حرام اور نجس چیزوں سے علاج عام ہے۔ ہزاروں ادویات میں ایسے کیمیکل استعمال ہوتے ہیں جو انتہائی ناپاک چیزوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس وقت ہم ان ادويات كے استعمال كا شرعى حكم بيان نہیں كر رہے ليكن بات يہ ہے کہ يہ تو اسلام کی خوبی ہے کہ اس نے پہلے دن سے ايسى فائدہ مند شے كے استعمال كى گنجائش رکھی کہ بوقتِ ضرورت اور علاج اسے استعمال کیا جا سکے۔ ہر چیز کو ہر حال میں حرام قرار دے کر انسانوں کو بلاوجہ کی تنگی اور سختی میں مبتلا نہیں کیا۔

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے