رمضان ميں شیطان قید ہونے کے باوجود گناہ کیوں؟

وضاحتِ شبہ:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے [صحيح البخاري : 3277 ، صحيح مسلم : 1079]
اس حدیث کی بنیاد پر یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ اگر رمضان میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے تو اس مہینے میں لوگ گناہ کیوں کرتے ہیں؟
جوابِ شبہ

پہلی بات:
جنات اور شیاطین ہمارے لیے غیب ہیں۔ جس طرح ہم وحی کی بنیاد پر ان کے وجود پر ایمان لاتے ہیں بالکل اسی طرح وحی میں ان کے بارے میں دی جانے والی خبروں پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ اس حدیث میں رمضان میں شیاطین کو زنجیروں میں جکڑنے کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔ لہٰذا غیب پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ اس بات پر بھی ایمان لایا جائے۔

دوسری بات:
اس اعتراض کی اصل بنیاد یہ غلط فہمی ہے کہ انسان تمام گناہ شیطان کی وجہ سے کرتا ہے! حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ گناہ کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں جن میں شیطانی وسوسہ ایک سبب ہے۔ اس کے علاوہ انسان کا نفس بھی بہت زیادہ گناہوں پر اکساتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ [يوسف : 53]

ترجمہ: اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتی، بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے۔

انسان کا نفس انسان سے کیا کچھ کروا سکتا ہے اس کا اندازہ قرآنِ مجید میں مذکور دو قصوں سے ہوتا ہے۔ پہلا قصہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا جبکہ دوسرا حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کا ہے۔ پہلے قصے میں ایک بھائی دوسرے کو قتل کر دیتا ہے جبکہ دوسرے قصے میں تمام بھائی مل کر ایک بھائی کو قتل کرنے کی غرض سے کنویں میں ڈال دیتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں دونوں قصوں میں قتل پر اکسانے والی چیز قاتل کا نفس قرار دیا گیا ہے۔ پہلے قصے میں فرمایا:

فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ  [المائدة : 30]

ترجمہ: پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا سو اس نے اسے قتل کر ڈالا جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہوگیا۔

دوسرے قصے میں فرمایا:

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا [يوسف : 18]

ترجمہ: (یعقوب نے) کہا: بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے ایک کام مزین بنا دیا ہے۔

تیسری بات:
رمضان میں جن شیاطین کو قید کیا جاتا ہے ان سے متعلق دو باتیں جاننا انتہائی ضروری ہیں:

پہلی یہ کہ وہ ’’شیاطینِ جن‘‘ ہوتے ہیں جبکہ شیاطین کی دوسری قسم ’’شیاطینِ انس‘‘ ہوتے ہیں اور وہ رمضان میں بھی آزاد ہوتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں’’شیاطینِ جن‘‘ کے ساتھ ’’شیاطینِ انس‘‘ کا بھی ذکر ہوا ہے۔ فرمایا:

الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِمِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ  [الناس : 5 – 6]

ترجمہ: وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا [الأنعام : 112]

ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنا دیا جن میں سے بعض بعضوں کو دھوکا دینے کے لیے چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے ہیں۔

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دلوں میں گناہوں کا وسوسہ ڈالنے کا عمل انسانی شکل میں موجود شیاطین کی طرف سے جاری رہتا ہے۔ اس طرح گناہوں کا ایک اور سبب انسانی شیاطین ہیں جو رمضان میں قید نہیں ہوتے۔

دوسری بات کہ ’’شیاطینِ جن‘‘ بھی تمام کے تمام قید نہیں ہوتے بلکہ وہ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو انسان کی ذات سے الگ ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو انسان کی ذات سے جڑے رہتے ہیں جنہیں "قرین” بھی کہا جاتا ہے [صحيح مسلم : 2814]۔ رمضان میں ’’شیاطینِ جن‘‘ میں سے جن کو قید کیا جاتا ہے وہ پہلی قسم سے ہوتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے شیاطین قید میں نہیں ہوتے۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ذکر ہے کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں تھے تو آپ کی زوجہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ سے ملنے آئیں۔ جب وہ واپس جانے لگیں تو نبیﷺ انہیں رخصت کرنے کے لیے مسجد کے دروازے تک گئے. وہاں سے دو انصاری صحابی گزر رہے تھے۔ آپﷺ کو ایک خاتون کے ساتھ دیکھا تو تیز چلنے لگے۔ آپﷺ نے انہیں روکا اور فرمایا: یہ صفیہ ہیں۔ تو وہ دونوں کہنے لگے: سبحان اللہ (یعنی ہم آپ کے متعلق بد گمانی کا سوچ بھی نہیں سکتے)۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: یقیناً شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خدشہ تھا کہ شیطان تم دونوں کے دلوں میں کوئی چیز نہ ڈال دے [صحيح البخاري : 2035 ، صحيح مسلم : 2175]۔

چوتھی بات:
بہت سے گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں انسان بطورِ عادت کرتا ہے۔ یعنی سال کے گیارہ مہینے گناہوں میں ملوث رہنے کی عادت رمضان میں بھی جاری رہتی ہے۔ یہ بات مشاہدہ میں ہے کہ جب کوئی چیز انسان کی عادت بن جائے تو پھر اسے عادت لگانے والے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جیسے کوئی شخص کسی کو نشے کی عادت لگا دے بعد میں اگر پہلا شخص چلا بھی جائے تب بھی دوسرا شخص نشہ کرتا رہتا ہے بالکل اسی طرح شیطان بھی پہلے گناہوں کی عادت لگا دیتا ہے پھر جب وہ رمضان میں قید ہوتا ہے تب بھی گناہوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

پانچویں بات:
مذکورہ تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان میں شیاطین کے قید ہونے سے گناہوں میں خاطر خواہ کمی تو ضرور آتی ہے جس کا ہم بخوبی مشاہدہ کرتے ہیں لیکن دنیا سے گناہوں کا وجود ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ شریعت کا مقصود ہے کیوں کہ اگر گناہ سرے سے ہی ختم ہو جائیں تو لوگوں کا امتحان کیسے ہوگا! اسی امتحان کی بنیاد پر ہی تو لوگوں کے اجر و ثواب اور درجات میں فرق ہوتا ہے ورنہ سب کے روزوں کا ثواب برابر ہوجاتا! رمضان میں شیاطین کا قید ہونا اللہ تعالی کی اپنی مخلوق پر مہربانی کا ایک مظہر ہے کہ اس میں گناہوں کے خارجی سبب (شیاطین) کو قید کر دیا گیا ہے۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ اس کے داخلی سبب (نفس) کو کس قدر قابو رکھتا ہے۔

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے