سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سفر میں حوأب کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں پھر بھی واپس نہ ہوئیں

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سفر میں حوأب کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں پھر بھی واپس نہ ہوئیں

وضاحت شبہ:
نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا تھا کہ تم (ازواج مطہرات ) میں سے کسی ایک پر حوأب کے کتے بھونکیں گے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو  جنگ جمل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کے خلاف نکلنے سے رسول اللہ ﷺ نے روکا تھا۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پھر بھی نکلیں۔
جوابِ شبہ

 

یہ واقعہ جنگ جمل کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے ، اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ جب سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر پر چل پڑیں تو بنو عامر کے چشموں کے پاس سے ان کا قافلہ گزرا۔ اس نے رات کے وقت انہیں جگایا تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کوکتے کی بھونکنے کی آواز  سنائی دی۔ انہوں نے  پوچھا : یہ کون سا چشمہ ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ حوأب کا چشمہ ہے۔ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ میں واپس چلی جاؤں؟؟ لوگوں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے۔ ذرا صبر کریں ، آپ آگے بڑھیں گی مسلمان آپ کو دیکھیں گے ، یقیناً اللہ تعالیٰ  آپ کے ذریعے صلح کروا دے گا۔ انہوں نے فرمایا: مجھے یقین ہے کہ میں لوٹ جاؤں گی۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ    [مسند احمد، ج ۶، ص ۵۲، حدیث نمبر: ۲۴۲۹۹۔ مسند ابی یعلی، ج ۸، ص ۲۸۲، حدیث نمبر: ۴۸۶۸۔ صحیح ابن حبان، ج ۱۵، ص ۱۲۶، حدیث نمبر: ۶۷۳۲۔ مستدرک حاکم، ج ۳، ص: ۱۲۹]

ترجمہ: اے میری بیویو! کیا حال ہو گا تم میں سے اس کا؟ جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے۔

حوأب:  مکہ کے راستے میں بصرہ کے قریب پانی کا ایک تالاب تھا۔

پہلی بات:
اس حدیث کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے۔ محدثين کی ایک جماعت جیسے یحییٰ بن سعید القطان، ابن طاہر المقدسی ، ابن الجوزی،   ابن العربی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء : 4/200 ، ذخیرۃ الحفاظ : 4/1922 ، العلل المتناھیہ :1420، کتاب الملاحم والفتن  ، العواصم من القواصم : 128 ) بعض اہل علم نے نشاندہی کی ہے کہ اس کے راوى قیس بن ابی حازم جنگ جمل میں موجود نہ تھے (العلل لابن المدینی : 50 )

ليكن ديگر اہل علم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے جیساکہ حافظ ذہبی  رحمہ اللہ (سیر اعلام النبلا ء : 2/177)،  ابن کثیر رحمہ اللہ  (البدایہ والنھایۃ : 6/217 )،  علامہ ہیثمی (مجمع الزوائد: 7/237 )اور علامہ البانی رحمہم اللہ ۔ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:474)

دوسری بات:
روایت کو اگر درست  مان لیا جائے تو حدیث سے واضح ہوتا ہے  کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوٹ جانا چاہتی تھیں اور اس کا انہوں نے دو بار تذکرہ کیا۔ لیکن طلحہ بن عبيد الله  اور  زبیر بن عوام  رضی اللہ عنہما نے انہیں کہا: آپ واپس جا رہی ہیں اور ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے؟ تو وہ سفر پر آگے بڑھنے لگیں اور واپس نہیں لوٹیں ۔

سیدنا زبیر اور طلحہ نے  آگے بڑھنے کا مشورہ کیوں دیا اور پھر سیدہ عائشہ کیوں بڑھیں یہ بھی اسی حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا مقصد صلح تھا۔

تیسری بات:
جن اہل علم نے اس  حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ لازم آتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نکلنا نہیں چاہیےتھا لہذا یہ ان کی اجتہادی خطا ہے  ۔ (سلسلہ الصحیحہ : 474)

سیدہ عائشہ اور صحابہ پر طعن کرنے والوں کی طرح بغاوت ، ظلم جیسی نازیبہ باتیں نہیں کہیں۔

چوتھی بات:
 مذکورہ حدیث میں سفر سے دو ٹوک  الفاظ میں نہیں روکا گیا ، جو اجتہاد کے منافی ہوتا ،  یہی وجہ بنی کہ سیدہ عائشہ نے سیدنا زبیر کے مشورے پر سفر پر آگے بڑھنا مناسب سمجھا، اگر نبی کریم ﷺ واضح طور پر روک دیتے تو سیدہ عائشہ قطعا ًسفر پر آگے نہ بڑھتیں۔

پانچویں بات:
بالفرض اگر روکنا مقصود بھی تھا تو بھی  سیدہ عائشہ سے حرام کا ارتکاب نہیں ہوا، کیونکہ انھوں نے اجتہاد کیا اور سفر  پر وہ تب روانہ ہوئیں جب انھیں یقین ہو گیا کہ ان کے راستے میں مذکورہ مقام  نہیں آتا۔ اگر وہ واپسی کا ارادہ کر بھی لیتیں پھر بھی ان کے لیے واپس ہونا ممکن نہ ہوتا کیونکہ کوئی ہم سفر ان کی تائید نہ کرتا ، جبكہ آپ كے سفر كے محرم آپ كے بهانجے عبد الله بن زبير تھے، جو زبير بن عوام كے بيٹے تھے۔

چھٹی بات:
اگر اس  حدیث کو بغاوت پر محمول کیا جائے تو بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ عمر کے آخری حصے تک سیدہ عائشہ سے خوب محبت کرتے رہے اور حتی بیماری کے عالم میں سیدہ عائشہ کے حجرے میں رہنے پر باقی تمام ازواج مطہرات متفق ہوگئیں کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں سیدہ عائشہ کی محبت کو جانتی تھیں۔

جس  سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث سے بغاوت ، ظلم یا اس کے  غلط معانی کا استدلال کرکے سیدہ عائشہ پر زبان درازی کرنا خود نبی کریم ﷺ  کےاس تعلق کی مخالفت میں ہے جو نبی کریم ﷺ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تعلق تھا۔

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے