حضرت عائشہ سے كم عمرى ميں شادى مناسب نہیں!

وضاحت شبہ:
حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال کی تھی۔  (صحیح بخاری : 5134) اس کم عمری میں عورت کے ساتھ شادی ظلم ہے کیونکہ وہ ابھی اس قابل ہی نہیں ہوئی۔
جوابِ شبہ

 

پہلی بات:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح چھے سال کی عمر میں اور رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔ ہر دو واقعات کے وقت حضرت عائشہ كى عمر کا تعین علمائے کرام کے اجتہاد سے نہیں ہوا بلکہ یہ ایک تاریخی امر ہے جو کہ ایسے ٹھوس دلائل سے ثابت شدہ ہے جن کی وجہ سے مذکورہ تاریخوں کو درست مانے بغیر کوئی چارہ نہیں اور يہ قرآنِ مجید کے بعد صحیح ترین کتب یعنی صحیح بخاری اور صحيح مسلم میں بیان ہوا ہے جیسے کہ درج ذیل لنک ميں اس كى تفصيل گزر چکی ہے:

دوسری بات : 
کم عمری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم کا شادی کرنا ظلم نہیں اور دلائل سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت شادی کی اہلیت رکھتی تھیں۔ اسے درست طور پر سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات ملاحظہ كريں:

1۔ انسانی قوت و طاقت خواہ ذہنی و جسمانی استعداد ہو یا قد و قامت کی بالیدگی اس میں اس کے ماحول، غذا اور آب و ہوا کا دخل ہوتا ہے اور سیدہ عائشہ عرب کی آب و ہوا سے تعلق رکھتی تھیں۔ ایسی غذا اور ماحول میں جلد بالغ ہو جانا ممکن ہے۔
آج بھی آپ ميڈيكل رپورٹس كا مطالعہ كريں تو بچيوں كى عمرِ بلوغت اور علاماتِ بلوغت كے حوالے سے 11 سے 15 تک مختلف عمريں ذكر كى جاتى ہیں اور يہ ہر ملک اور زمانے كے لحاظ سے مختلف بھی ہوتى ہیں.

2۔  غذا کی بات کی جائے تو  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غذا کا تذکرہ یوں موجود ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میری ماں میرے كمزور جسم ہونے کا علاج کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کر سکیں لیکن کوئی تدبیر بن نہیں پڑی یہاں تک کہ میں نے ککڑی کھجور کے ساتھ ملا کر کھائی تو میں اچھی طرح تندرست ہو گئی۔ (سنن ابن ماجہ : 3324).

اسى ضمن ميں يہ بھی كہا جاتا ہے کہ  سیدہ عائشہ ر ضی اللہ عنہا  سے  کم عمری میں نکاح کی وجہ کیا تھی ؟ اور کیا اس سے زیادہ عمر کی خاتون سے نکاح ممکن نہ تھا ؟۔
جواب

 

پہلی بات :
ايسا بالكل ممکن تھا اور آپ ﷺ نے بعد میں اور شادیاں بھی کیں بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو کہ عمر رسید ہ خاتون تھیں لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو حکمتیں تھیں وہ کسی اور سے شادی میں نہیں تھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکمِ رب تھا جو کہ خواب کی صورت میں نبی کریم ﷺ نے دیکھا تھا۔ اس خواب کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ نے بھی کیا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حدیث مروی ہے کہ عا‏ئشہ رضی اللہ تعالی بیان کرتی ہيں کہ نبی ﷺ نے انہيں فرمایا:
’’خواب میں مجھے تم دو بار دکھائی گئی تھی۔ میں نے تمہیں ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی دیکھا۔ کہا گیا کہ یہ آپ كى بیوی ہیں جب میں کپڑا ہٹاتا ہوں تو دیکھا کہ تم ہو۔ میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے پورا کرے گا ‘‘ (صحیح بخاری : 3682)  
 اور اس حدیث کو بیان کرنے والی خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔

دوسری بات:  
اس شادی کی کئی ایک حکمتیں تھیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذہانت اور فقاہت کو خواتین کی تعلیم میں بروئے کار لانا :
نبیﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بچپن سے ہی بڑی ذہین و فطین پایا لہذا شادی کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ کے افعال اور اقوال کو دوسروں کی بنسبت بہتر طریقے سے آگے منتقل کر سكيں ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمِ اسلام کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذہانت و فطانت سے بڑا فائدہ ہوا۔ اس حوالے سے چند اقوال ملاحظہ فرمائیں ۔
1۔ امام عطاء بن رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں میں زیادہ بڑی سمجھدار ، سب سے زیادہ علم والی اور (مسائل میں) عام طور پر سب سے اچھی رائے رکھنے والی تھیں۔
 (مؤطا مالک، تاریخ الاسلام للذھبی : 4/347 )  
2۔ سیدنا مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  
’’ میں نے رسولِ کریم ﷺ کے صحابہ میں سے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وراثت کے مسائل کے بارے میں سوالات کرتے دیکھا۔ (مؤطا مالک : 1/92 ، سنن الدارمی : 2859 )
3 ۔ یہی بات قبیصہ بن ذویب اور ابو موسی اشعری سے منقول ہے۔ (تذکرۃ الحفاظ : 1/25) بلکہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری تو کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جب بھی کسی مسئلہ میں اشکال ہوتا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرتے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس حوالےسے علم ہوتا تھا۔ (جامع ترمذی : 3883)
، 4۔ سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ میں نے قرآن، فرائض، حلال، حرام، شعر، کلامُ العرب اور نسب کے علم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا عالم کوئی نہیں دیکھا۔ ‘‘
(تذکرۃ الحفاظ للذھبی 1/25، صفۃ الصفوۃ 2/32)
5-امام ذهبى فرماتے ہيں: ” أفقه نساء الأمة على الاطلاق” اس امت كى سب سے بڑى فقيهہ (دين سمجھنے والى) خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں (سير أعلام النبلاء : 2/135).
ان اقوال سے معلوم ہوا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بے مثل قوتِ حافظہ و فطانت اور  بے نظیر خداداد صلاحیتوں کی مالکہ تھیں جن کی بدولت انہوں نے دینِ اسلام رسولِ کریم ﷺ سے سیکھا اور لوگوں تک پہنچایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے ہم تک پہنچے دینی احکام سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے كہ اللہ رب العالمین کے رسولِ کریم ﷺ کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انتخاب میں کتنی بڑی حکمت پنہاں ہے۔

تيسرى بات:
یہ پہلو بھى اہم ہے کہ اس شادی کی ایک وجہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے انتہائی قریبی تعلقات اور محبت کا رشتہ ہے۔ جس کی نظیر معاشرے میں ہم یوں دیکھتے ہیں کہ عام طور پر دوستی کے تعلقات رشتے داری میں بدل جاتے ہیں ۔ رسولِ کریم ﷺ سے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تعلق سب سے زیادہ محبت والا تھا۔ اسی کے اثرات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ یہ در اصل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قربانیوں اور رسولِ کریم ﷺ کے ساتھ محبت بھرے تعلق کا ایک صلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ دیا گیا کہ ان کی اولاد کو بھی اعلیٰ مقام سے نواز دیا۔  

Was this article helpful?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے